گرو بابا کے احتجاجی پنڈال پر پولیس کا دھاوا

Posted by on Jun 05, 2011 | Comments Off on گرو بابا کے احتجاجی پنڈال پر پولیس کا دھاوا

بھارت میں پولیس نے گرو بابا رام دیو کے احتجاج کو طاقت کا استعمال کر کے روک دیا ہے۔

دارالحکومت دہلی میں پولیس نے گرو بابا کے ساتھ موجود لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کی کارروائی میں تیس کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

معروف یوگاگرو بابا رام دیو نے بدعنوانی کے خلاف سنیچر سے اپنی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔گزشتہ روز حکومت اور بابا کے درمیان بات چیت ناکام ہوگئی تھی۔

بابا رام دیو نے اپنی مہم کے لیے دلی کے رام لیلا گرانڈ پر ایک زبردست پنڈال لگوایا جہاں کئی ہزار ان کے حامی بھی جمع ہوئے۔

صبح ہی بابا نے پہلے اپنے حامیوں کو یوگا کا درس دیا اور پھر بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔ان کے ساتھ ان کے بہت سے حامیوں نے بھی بھوک ہڑتال شروع کی۔

بھوج پوری فلموں کے ایک فنکار اور اداکار منوج تیواری بھی بابا رام دیو کے پاس سٹیج پر پہنچے اور انہوں نے بدعنوانی کے خلاف ان کی مہم کی حمایت کی۔

لیکن وشو ہندو پریشد کی ایک بہت ہی متنازعہ رہنما سادھوی رتھبمرا کی وہاں پر موجودگی سے تنازعہ بھی کھڑا ہوگیا ہے۔ سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کے بھی بہت سے کارکن وہاں دیکھے گئے۔
بابا رام دیو

بابا رام دیو کی جڑی بوٹیوں کی بہت سی دکانیں ہیں

سادھوی راتھمبرا نے بابری مسجد کے انہدام میں بڑا اہم رول ادا کیا تھا اور بہت پہلے سے انہیں ایک سخت گیر ہندو رہنما مانا جاتا ہے۔

بابا رام دیو کی مہم کی حمایت کرنے والے بہت سے سول کار کنان نے کہا ہے کہ انہیں اس پوری تحریک کو فرقہ پرستی کا رنگ نہیں دینا چاہیے۔

کانگریس پارٹی کے سینیئر رہنما دگ وجے سنگھ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بابا رام دیو کی یہ پوری مہم آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے اشارے پر ہورہی ہے اور وہ خود ایک سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز حکومت کے نمائندوں اور بابا رام دیو کے درمیان بات چیت ناکام ہوگئی تھی۔وفاقی حکومت کی جانب سے سینیئر وزرا کپل سبل اور سبودھ کانت سہائے اور بابا رام دیو کے درمیان بات چیت پانچ گھنٹے سے زیادہ دیر تک چلی تھی۔

بابا رام دیو نے بدعنوانی کے خلاف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت بیرون ملک میں جمع بھارتی شہریوں کا کالا دھن فورا واپس لائے اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے ٹھوس کارروائی کرے۔

وہ جن اقدامات کی مانگ کر رہے ہیں ان میں پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹ بند کرنے اور بڑے پیمانے پر ٹیکس کی چوری کرنے والوں کے لیے موت کی سزا اور ان کی املاک ضبط کرنے جیسی تدابیر شامل ہیں۔

حکومت کسی بھی قیمت پر ان کی تحریک کو روکنا چاہتی تھی اور بتایا جاتا ہے کہ کالے دھن کی واپسی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی جیسے مطالبات پر اس نے بابا رام دیو کو ٹھوس یقین دہانیوں کی پیش کش کی ہے

۔

لیکن اطلاعات کے مطابق سزائے موت کی تجویز یا بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کی مانگ غیر حقیقت پسندانہ ہے جس پر کوئیسمجھوت

نہیں کیا جاسکتا

اطلاعات کے مطابق پس پردہ اب بھی بات چیت جاری ہے اور ممکن ہے کہ آگے کوئی سمجھوتہ طے پا جائے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–