کرزئی کی اسلام آباد آمد

Posted by on Jun 10, 2011 | Comments Off on کرزئی کی اسلام آباد آمد

صدر آصف علی زرداری کی دعوت پر افغان صدر حامد کرزئی دو روزہ دورے پر جمعہ کو اسلام آباد پہنچے ہیں۔ ان کے 80 رکنی وفد میں افغان فوج کے سربراہ، وزیر خارجہ اور اعلی امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی بھی شامل ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان صدر کا دورہ اسلام آباد علاقائی مسائل بالخصوص جولائی میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے آغاز کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔

افغا ن صدر اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی سے ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششوں ، افغانستا ن میں قیام امن اور مصالحتی عمل پر تفصیل سے بات چیت کریں گے ۔

حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطوں میں تیز ی آئی ہے ۔ اپریل کے وسط میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشاکے ہمراہ کابل کا دورہ کیا تھا۔

وزیراعظم گیلانی کے دورہ کابل کے دوران دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ کمیشن کی تشکیل پربھی اتفاق کیا تھا جس کا مقصد خطے میں مصالحت کے فروغ اور امن کی کوششوں میں تیز ی لانا ہے ۔ صدر کرزئی کے دورے کے دوران اس کمیشن کے قیام کا باضابطہ اعلان بھی متوقع ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے ایک پارلیمانی وفد نے بھی کابل کو دورہ کیا تھا جس میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی بھی شامل تھے۔ انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صدر کرزئی کے دورہ اسلام آباد کے دوران افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا سمیت دوطرفہ تجارتی رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ صد رکرزئی کے دورے کے دوران جو حل طلب مسائل ہیں ان میں پیش رفت ہو سکے گی۔

پاکستان اور افغانستان نے حال ہی تجارتی راہداری کے دوطرفہ معاہدے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے آغاز کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کر نے کے بعد اس پر 12 جون سے عمل درآمد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دونوں ملک اس معاہدے کو اقتصادی رابطوں میں فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں افغانستان سے سرحد پار کر کے آنے والے دہشت گردوں نے ضلع اپر دیر میں سکیورٹی فورسز کی چوکی پر بھی حملہ کیا ہے جس کے بعد پاکستان نے اس واقعے پر افغان حکومت اور وہاں تعینات نیٹوافواج سے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ توقع ہے کہ اس دورے کے دوران اس معاملے پر دونوں ممالک کے رہنما تبادلہ خیال اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بات چیت کریں گے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–