پولیس کارروائی جمہوریت پر حملہ ہے

Posted by on Jun 06, 2011 | Comments Off on پولیس کارروائی جمہوریت پر حملہ ہے

حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی اور سول سوسائٹی کے رہنماں نے دلی میں یوگا گرو بابا رام دیو کے دھرنے پر پولیس کی کارروائی کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے جبکہ خود بابا رام دیو کا الزام ہے کہ حکومت انہیں ہلاک کرنا چاہتی تھی۔

دلی پولیس نے بدعنوانی کے خلاف یوگا گرو بابا رام دیو کی بھوک ہڑتال اور دھرنا سنیچر کو رات گئے زبردستی ختم کروا دیا ہے۔

تقریبا چھ سو پولیس اہلکاروں نے رات تقریبا ایک بجے رام لیلا میدان میں موجود بابا رام دیو اور ان کے ہزاروں مداحوں کو منشتر کرنے کے لیے کارروائی کی جس میں آنسو گیس کا بھی استعمال کیا گیا۔

بابا رام دیو کو اس کارروائی کے بعد ہریدوار میں ان کے آشرم پہنچا دیا گیا جہاں انہوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کی بھوک ہڑتال ختم نہیں ہوئی ہے۔

حکومت نے پر امن مظاہرین کو نشانہ بنا کر جمہوریت کو نشانہ بنایا ہے۔ پر امن احتجاج ہر شخص کا بنیادی حق ہے، حکومت نے جمہوریت کی آواز کو خاموش کیا ہے اور تحریک میں حصہ لینے والے لوگوں کے خلاف جس انداز میں طاقت کا استعمال کیا گیا اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت ان کے ساتھ ڈیل کی بات کرکے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کے مطابق اتوار کی رات میری زندگی کی سب سے کالی رات تھی جب پولیس نے عورتوں اور معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا۔۔۔اگر میں لوگوں کو مشتعل ہونے سے نہیں روکتا تو ہزاروں لاشیں بچھ جاتیں۔۔۔حکومت مجھے اغوا کر کے ختم کرنا چاہتی تھی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری نے کہا ہے کہ پولیس کی بربریت نے ایمرجنسی کی یاد تازہ کردی ہے اور بابا رام دیو سے اظہار یکجہتی کے طور پر بی جے پی دلی میں راج گھاٹ (مہاتما گاندھی کی سمادھی) پر شام سات بجے سے چوبیس گھنٹے کا ستیہ گرہ شروع کرے گی۔

جماعت کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو اس کارروائی کے لیے بابا رام دیو اور پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے صدر جمہوریہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب کریں۔

بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے سرکرہ رہنما بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

رام دیو ایک ٹھگ ہیں اور ان کے ساتھ جو سلوک کیا جانا چاہیے تھا وہ ہی کیا گیا ہے۔

دگ وجے سنگھ

سماجی کارکن انا ہزارے کا کہنا ہے کہ حکومت نے پر امن مظاہرین کو نشانہ بنا کر جمہوریت کو نشانہ بنایا ہے۔۔۔پر امن احتجاج ہر شخص کا بنیادی حق ہے، حکومت نے جمہوریت کی آواز کو خاموش کیا ہے اور تحریک میں حصہ لینے والے لوگوں کے خلاف جس انداز میں طاقت کا استعمال کیا گیا اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

لیکن حکومت کی جانب سے دو وزار کپل سبل اور سبودھ کانت سہائے میڈیا کے سامنے اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔ دونوں نے کہا کہ اگر اس دھرنے کو جاری رہنے دیا جاتا تو نقص امن کا خطرہ تھا اور بابا رام دیو کے مطالبات جس حد تک تسلیم کیے جا سکتے تھے، کر لیے گئے تھے لیکن پھر بھی وہ اپنی ضد پر اڑے رہے۔

ادھر کانگریس کے جنرل سیکریٹری دگ وجے سنگھ نے کہا کہ رام دیو ایک ٹھگ ہیں اور ان کے ساتھ جو سلوک کیا جانا چاہیے تھا وہ ہی کیا گیا ہے۔

بدعنوانی کے خلاف بابا رام دیو کی تحریک اب تیزی سے بی جے پی اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی کی شکل اختار کرتی جارہی ہے اور صبح سے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی سے لیکر پارٹی کی تقریبا پوری اعلی وفاقی قیادت میڈیا سے خطاب اور حکومت پر سخت تنقید کر چکی ہے۔

اس سے پہلے کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ بابا رام دیو سیاسی ایجنڈے کے ساتھ دلی آئے ہیں اور انہیں بی جے پی اور آر ایس ایس کی پشت پناہی حاصل ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–