وزیراعظم کا دورہٴ پنجاب اور مثبت تبدیلی کے اشارے

Posted by on Jun 30, 2012 | Comments Off on وزیراعظم کا دورہٴ پنجاب اور مثبت تبدیلی کے اشارے

راجہ پرویز اشرف نے اِس سال کو انتخابات کا سال قرار دیا اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت بھی دی

 وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے دورہ ٴپنجاب کے موقع پر مسلم لیگ ن کا لچک دار رویہ اور وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کو چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے مذاکرات کی دعوت دینے کو مبصرین ملکی سیاست میں مثبت تبدیلی کے اشارے قرار دے رہے ہیں ۔

جمعہ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف منصب پر فائز ہونے کے بعد پہلے دورہ پنجاب پرلاہور پہنچے ۔سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں سیاسی کشیدگی انتہا تک پہنچ چکی تھی ۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے ساتھ ساتھ شہباز شریف نے سید یوسف رضا گیلانی کا استقبال کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا ۔

بیسویں ترمیم کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت پانچ برس ہوگی اور انہیں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی طرح حلف لینا ہوگا۔انہیں ہٹانے کا طریقہ کار بھی ججوں کی طرح کا ہی ہوگا۔اس کے علاوہ نگراں حکومت کے قیام میں بھی چیف الیکشن کمیشن کا کلیدی کردار ہو گا ۔ اگر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگراں حکومت کے سیٹ اپ کیلئے تین روز تک مشاورت کےبعد ناکام رہے تو یہ معاملہ حکومتی اور اپوزیشن کی آٹھ رکنی کمیٹی  کے پاس جائے گا ، اگر وہ بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی تو پھر حتمی فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کرے گا اور وہ صدر کو نگراں وزیراعظم کانام بھجوائے گا ۔

پنجاب میں یوسف رضا گیلانی کا استقبال بھی پیپلزپارٹی کے گورنر لطیف کھوسہ کرتے تھے اور الوداع بھی، تاہم نئے وزیراعظم کے پنجاب پہنچنے پر مسلم لیگ کے وفد نے ان کا استقبال کیا جس کی قیادت وزیراعلیٰ پنجاب کے سینئر مشیر سردار لطیف کھوسہ نے کی ۔

یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ بھی دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث کھٹائی میں پڑا ہوا ہے ۔ بیسویں ترمیم کے بعدانتخابات کیلئے اس عہدے کی تقرری انتہائی ضروری ہے ۔

بیسویں ترمیم میں نئی شق شامل کی گئی تھی جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ہر صوبے سے چار اراکین کی تقرری حکومت اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کو کرنا ہے ۔حکومت اور اپوزیشن کے چھ ، چھ اراکین پر مشتمل کمیٹی متعدد اجلاسوں کے باوجود تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ۔ دونوں جانب سے نام تجویز کیے گئے تاہم اتفاق نہ ہو سکا ۔

راجہ پرویز اشرف نے پیپلزپارٹی پنجاب کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلا س کی صدارت کے بعد میڈیا کو بتایا کہ وہ صوبائی حکومتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر کسی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتا جائے گا ۔وزیراعظم نے اس سال کو انتخابات کا سال قرار دیا اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت بھی دی ۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف بھی این آر او عملدرآمد کیس میں سوئس حکام کو خط لکھنے کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دائر ہو چکی ہیں اور وہ بھی یوسف رضا گیلانی کی طرح نا اہل ہو سکتے ہیں ۔لہذا ان کے پاس کام زیادہ ہے اور وقت تھوڑا ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں کسی بھی عدالتی فیصلے سے کم از کم چیف الیکشن کمشنر کا تقرر لازمی کرنا پڑے گا ورنہ یہ معاملہ مزید طوالت اختیار کرتاجائے گا اوروقت مقررہ پر انتخابات بھی کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں ۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–