میمو ایک حقیقت اور خالق حسین حقانی ہیں

Posted by on Jun 12, 2012 | Comments Off on میمو ایک حقیقت اور خالق حسین حقانی ہیں

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے متنازع میمو کیس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی سربراہ کو لکھا گیا میمو حقیقی تھا اور اس کے خالق امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی تھے۔

متنازع میمو کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف نے دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اٹھائیس نومبر کو یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی جسں میں وفاق کے علاوہ صدر آصف علی زرداری، بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، انٹرسروسز انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا، سیکرٹری خارجہ، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس آئینی درخواست میں پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز کے اس اخباری مضمون کا ذکر کیاگیا ہے جس میں یہ الزام لگایا تھا کہ+ پاکستان کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد خفیہ ذرائع سے اس وقت کے امریکی فوج کے اعلیٰ ترین عہدیدار کو ایک مراسلہ بھجوایا تھا۔ اس مراسلے میں پاکستانی حکومت کا تختہ الٹنے کے ممکنہ فوجی اقدام کے خطرے کے خلاف امریکی حکومت سے مدد طلب کی گئی تھی۔

میمو کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حسین حقانی کی تمام تر وفاداریاں پاکستان کے ساتھ ہونی چاہیے تھیں لیکن وہ بھول گئے تھے کہ وہ پاکستان کے سفیر ہیں۔

یاد رہے کہ سابق امریکی کمانڈر مائک مولن کو یہ مراسلہ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد بزنس مین منصور اعجاز نے بھیجا اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایسا انہوں نے امریکہ میں اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی کے کہنے پر کیا۔

واضح رہے کہ سابق سفیر حسین حقانی پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں۔ اور سپریم کورٹ نے ان کی اہلیہ فرح ناز اصفحانی کی گزشتہ ماہ قومی اسمبلی کی رکنیت دوہری شہریت رکھنے پر معطل کردی تھی جس کے بعد وہ بھی امریکہ چلی گئیں۔

یہ بات سپریم کورٹ میں متنازع میمو کیس کی سماعت کے دوران میمو کمیشن رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے سامنے آئی۔

اسلام آباد میں شہزاد ملک نے بتایا کہ میمو کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حسین حقانی نے پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔

:حسین حقانی کے ٹوئٹ

کمیشن کی کارروائی یکطرفہ تھی اور مجھے نہیں سنا گیا۔ میرے وکیل کمیشن کی رپورٹ کو چیلنج کریں گے۔
میمو کمیشن کی رپورٹ دیگر اہم ایشوز پر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ یہ رپورٹ قانونی نہیں سیاسی ہے۔
کمیشن عدالت نہیں ہے اور وہ جو کہتے ہیں کہ کمیشن نے بےقصور یا جرم ثابت کیا ہے وہ لوگ غلط ہیں۔ جنہوں نے فوجی آمروں کی حکومت کی توثیق کی اور ان کو آئین تبدیل کرنے کی اجازت دی وہ میری یا کسی اور کی حب الوطنی کا تعین نہیں کرسکتے۔
وہ میری حب الوطنی کا تعین نہیں کرسکتے جنہوں نے ایک غیر ملکی کی ہرممکن مدد کی لیکن پاکستانی شہری کو سننا گوارہ نہیں کیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حسین حقانی خود مجوزہ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ بننا چاہتے تھے۔

چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں نو رکنی بینچ نے میمو کمیشن رپورٹ کو عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حسین حقانی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کی سویلین حکومت امریکہ کی دوست ہے۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس مقدمے کی ساعت کے لیے اپنی سربراہی میں نو رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے۔

حسین حقانی کو سپریم کورٹ نے اس شرط پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی کہ عدالت کے نوٹس پر وہ چار دن میں پیش ہونے کے پابند ہوں گے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–