معاف کیے گئے قرضوں کے لیے کمیشن

Posted by on Jun 02, 2011 | Comments Off on معاف کیے گئے قرضوں کے لیے کمیشن

سپریم کورٹ نے اربوں روپے کے قرضے معاف کرنے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کی منظوری دے دی اس کے علاوہ قرضوں کے اجرا اور ان قرضوں کی واپسی سے متعلق اسٹیٹ بینک کے سرکلر کا نیا ترمیم شدہ مسودہ بھی منظور کرلیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں سے گزشتہ چالیس سال کے دوران معاف کیے گئے 256 ارب روپے کے قرضوں کی سماعت کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ معاف کیے گئے قرضوں کے درست یا قواعد وضوابط کے خلاف جاری کیے جانے سے متعلق فیصلہ بھی یہ کمیشن ہی کرے گا۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ جمشید علی کی سربراہی میں بننے والا یہ کمیشن سنہ انیس سو اکہتر سے لیکر انیس سو اکیانوے کے دران پچیس لاکھ روپے اور اس سے زائد کے قرضوں کی جانچ پڑتال کرے گا جبکہ انیس سو بانوے سے لیکر اڑہائی کروڑ روپے یا اس سے زائد کے قرضوں کی جانچ پڑتال کرے گا۔

کمیشن موجودہ حکومت کے دور میں معاف کیے گئے پچاس ارب کے قرضوں کی بھی جانچ پڑتال کرے گا کہ آیا یہ قرضے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے معاف کیے گئے یا پھر سیاسی بنیادوں پر۔

یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جمشید علی سپریم کورٹ کے ان ججز میں شامل تھے جنہیں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھروں میں نظر بند کردیا تھا۔ بعدازاں انہوں نے غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے دوبارہ حلف لے لیا تھا۔ دوبارہ حلف لینے کے تین ہفتوں کے بعد وہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تھے۔

یہ کیمشن ان بینکاروں کے خلاف بھی تحقیقات کرے گا جنہوں نے قواعد وضوابط سے ہٹ کر قرضے جاری کیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیاسی بنیادوں پر جاری اور معاف کیے گئے قرضوں کی روایت اب ختم ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ ریت چلی آتی رہی ہے کہ جن لوگوں کے سیاسی بنیادوں پر اربوں روپے کے قرضے معاف کیے گئے وہ اپنا کاروبار بڑے احسن طریقے سے چلا رہے ہیں جبکہ اگر کوئی غریب آدمی قرضہ لیکر واپس نہ کرے تو اس کا گھر بھی نیلام کردیا جاتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی طرف سے پیش کیے جانے والے مسودے میں ترمیم کروائی ۔ ترمیم سے پہلے اس مسودے میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ بینک ہی افسر کے خلاف کارروائی کا مجاز ہوگا جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ وہ بینک اس افسر کے خلاف کیسے کارروائی کرسکتا ہے جس نے قواعد وضوابط سے ہٹ کر قرضے دیے ہوں اس لیے کمیشن ہی اس بینکار کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گا۔

عدالت نے اسٹیٹ بینک کے وکیل سے کہا کہ تمام بینک اور مالیاتی ادارے اس امر کو یقینی بنائیں کہ 256 ارب روپے کے معاف کیے گئے قرضوں سے متعلق تمام تفصیلات اور مواد کمیشن کو پیش کیا جائے اور کمیشن کے ساتھ اس ضمن میں بھرپور تعاون کیا جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کمیشن ان قرضوں سے متعلق کیسز کی جانچ پڑتال کے بعد ہر ماہ اسٹیٹ بینک کو رپورٹ دے گا اس کے علاوہ یہ کمیشن چھ ماہ میں اپنا کام مکمل کرے گا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–