لڑائی سے نکلنے کی حکمت عملی چاہتے ہیں

Posted by on Jun 02, 2011 | Comments Off on لڑائی سے نکلنے کی حکمت عملی چاہتے ہیں

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بارے میں حکومت غور کرے گی کہ اس کی ضرورت ہے بھی یا نہیں اور اس معاملے میں غیرضروری مداخلت نہیں کرے گی۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق انہوں نے یہ بات سرکاری ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں کہی جس میں وہ عوام کی ٹیلی فون کالز کا جواب دیتے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے شدت پسند عناصر کے خلاف فوجی آپریشن کے بارے میں سوال پر مسٹر گیلانی کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی فوجی کارروائی کا شوق نہیں ہے اور ہم اس لڑائی سے نکلنے کی حکمت عملی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت شمالی وزیرستان میں کارروائی کے لیے کسی سے ڈکٹیشن نہیں لے رہی لیکن جب اس کی رٹ چیلنج ہوگی تو وہ ایکشن لے گی۔

پاکستان کے چھانی والے شہر ایبٹ آباد میں پاکستان کی ملٹری اکیڈمی سے چند سو میٹر کے فاصلے پر امریکی کارروائی میں اسامہ بن لادن کے برآمد ہونے اور مارے جانے کے بعد پاکستان پر عالمی دبا بڑھا ہے اور پچھلے ہفتے ہی امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اہم موڑ پر پہنچ گئے ہیں اور امریکہ آنے والے دنوں میں دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کیلیے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے جو پاکستانی سرزمین سے افغانستان پر حملے کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ وہ ہتھیار پھینک دیں اور حکومت کی رٹ کو تسلیم کریں۔

لیکن انہوں نے کہا کہ اگر وہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کریں گے اور معصوم لوگوں، سیکیورٹی فورسز اور حکومتی تنصیبات پر حملے کریں گے تو حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔

وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی تعریف کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہے۔

یہ ملکی مفاد میں نہیں ہے کہ ہم ان کے لیے کسی قسم کے اچھے جذبات رکھیں کیونکہ ان کی وجہ سے میرے ملک کے 36 ہزار لوگ شہید ہوئے ہیں۔ پانچ ہزار فوجی جوان شہید ہوئے ہیں۔ اتنے ہی لوگ معذور ہوئے ہیں پھر ان کے خون کا ذمہ دار کون ہوگا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–