طالبان کو معاشرے کا حصہ بنانے کی کوشش

Posted by on Jun 08, 2011 | Comments Off on طالبان کو معاشرے کا حصہ بنانے کی کوشش

امریکہ اور برطانیہ کی حمایت یافتہ اقوام متحدہ کی کمیٹی افغانستان میں کئی سابق افغان طالبان رہنماں کے خلاف پابندیاں ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ان پابندیوں کے خاتمے کا مقصد طالبان کے ان دھڑوں کو مصالحتی عمل کے تحت امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے ساز گار ماحول مہیا کرنا ہے جو اب بھی افغانستان میں طالبان کی مزاحمتی تحریک کا حصہ ہیں۔

کابل میں  طالبان پر پابندیوں کے حوالے سے قائم کمیٹی کے سربراہ رچرڈ بیرٹ سے بات کی ہے۔

کلِک طالبان کے نام فہرست سے نکلوانے کی کوشش

رچرڈ بیرٹ کا کہنا ہے طالبان واپس آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کوئی افغانستان کے ایک موثر آئین میں دلچسپی لے رہا ہے اور اس کو افغان عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ طالبان افغان معاشرے میں ایک کثیر تعداد میں لوگوں کا گروہ ہے اور ان کی ملک کو چلانے کے عمل میں ایک آواز ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا اس میں اہم چیز یہ ہے کہ طالبان افغان معاشرے کے ایک حصے کے طور پر واپس آئیں گے اور وہ غالب آنے کی کوشش نہیں کریں گے اور نہ ہی دوسروں کے نقصان کا سبب بنیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ فوجی یا طاقت کے ذریعے حل ہو سکتا ہے اور یہ بات واضح ہے۔

رچرڈ بیرٹ نے کہا سیاسی عمل شروع ہونا چاہیے اور اس عمل کا مقصد طالبان کو دوبارہ معاشرے کا حصہ بنانا ہے۔ ہر ایک کا یہ ہی مقصد ہے اور مجھے امید ہے کہ اس کو جلد یا تاخیر سے حاصل کر لیا جائے گا۔ اگرچہ موجودہ صورتحال میں یہ بہت مشکل لگ رہا ہے۔

طالبان کے سربراہ ملا عمر یا کوئٹہ شوری کسی معاہدے پر دستخط کر دیتے ہیں تو کیا ہر کوئی اس پر عمل کرے گا یا مقامی طور پر طالبان کی مزاحمت جاری رہے گی، اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ کوئٹہ شوری پر منحصر ہے کہ اگر وہ اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتے تو ان سے بات چیت کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–