صومالیہ کے وزیر داخلہ عبدالشکور شیخ حسن موگادیشو میں بھتیجی کے ہاتھوں ہلاک

Posted by on Jun 11, 2011 | Comments Off on صومالیہ کے وزیر داخلہ عبدالشکور شیخ حسن موگادیشو میں بھتیجی کے ہاتھوں ہلاک

صومالیہ کے وزیر داخلہ عبدالشکور شیخ حسن موگادیشو میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ پر حملہ کرنے والی بمبار وزیر داخلہ کی اپنی بھتیجی تھی جس نے شدت پسند گروپ الشہاب میں شمولیت حاصل کر لی تھی۔
الشہاب گروپ کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ پر حملے اس نے کرایا ہے اور یہ کہ ایسے مزید حملے ہوں گے۔
وزیر داخلہ عبدالشکور شیخ حسن پر ہونے والے حملہ گزشتہ تین ہفتوں میں ملک میں ہونے والا اپنی نوعیت کا تیسرا خود کش حملہ ہے۔
حکام کے مطابق وزیر داخلہ کی بھتیجی حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ ان کے گھر آ چکی تھی جس کی وجہ سے ڈیوٹی پر موجود محافظوں نے ان کی تلاشی لینا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
حکام کے مطابق وہ گھر میں داخل ہوئی اور اس نیخود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
وزیر داخلہ خود کش حملے میں شدید زخمی ہو گئے اور جب انہیں علاج کے لیے قریبی ملک کینیا لے جانے کی تیاری ہو رہی تھی تو اس دوران انہوں نے دم توڑ دیا۔
القاعدہ سے روابط رکھنے والی تنظیم الشہات حالیہ ماہ میں حکومتی دستوں اور افریقی یونین کے فوجیوں کے مقابلے میں پسپائی اختیار کر رہی ہے۔
مشرقی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار وِل راس کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی جب جب الشہاب کمزور نظر آئی ہے تو اس نے اعلی سطحی حکومتی عہدے داروں کو نشانہ بنایا ہے۔
واضح رہے کہ صومالیہ کے جنوبی اور وسطی علاقوں پر الشہا ب جنگجوں کا کنٹرول ہے جبکہ اقوام متحدہ کی حمایت سے قائم حکومت کا دائرہ اختیارات دارلحکومت موغادیشو کے محض کچھ علاقوں تک محدود ہے۔
صومالیہ گزشتہ بیس سال سے لگاتار جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ صومالیہ کی آخری فعال حکومت کا تختہ سن انیس سو اکیانوے میں الٹا گیا تھا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–