سیلاب میں تباہی کا ذمہ دار محکمہ آبپاشی ہے

Posted by on Jun 07, 2011 | Comments Off on سیلاب میں تباہی کا ذمہ دار محکمہ آبپاشی ہے

سنہ دوہزار دس میں ملک میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہونے والے نقصان اور اس کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے جانے والے کمیشن نے توری بند ٹوٹنے سے متعلق سندھ کے محکمہ آبپاشی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

یہ بات سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے جانے والے چار رکنی تحقیقاتی کمیشن نیاپنی رپورٹ میں کہی ہے۔ یہ کمیشن محمد اعظم خان کی سربراہی میں بنایا گیا تھا اور اس میں باقی تین صوبوں سے ایک ایک رکن نامزد کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ادارے میں ہونے والی بدعنوانی اور افسران کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے حفاظتی پشتے ٹوٹے۔ اس سیلاب کی وجہ سے ملک کو ساڑھے آٹھ سو ارب سے زائد کا نقصان ہوا اور سیلاب کے دوران سولہ سو افراد ہلاک ہوئے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سیلاب میں ہونے والی تباہی سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت کی۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ فوری طور پر سیلاب کے پانی کو روکنے کے اقدامات کیے جاتے۔ متعلقہ صوبے نے جو فوری طور پر سیلاب کو روکنے کے لیے انتظامات کیے تھے وہ سیلاب کی نذر ہوگئے۔

کمیشن

عدالت کا کہنا ہے کہ کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے جلد احکامات جاری کیے جائیں گے۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر صوبہ خیبر پختونخوا میں منڈا ڈیم کی تعمیر مکمل ہوجاتی تو ملک سیلاب کی اتنی بڑی تباہی سے بچ جاتا۔

دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ہائی ویز اور موٹر ویز کے نیچے آبی گزرگاہوں میں پانی کے اخراج کی جگہ کم ہونے کی وجہ سے دونوں صوبوں کے قریبی علاقوں میں سیلاب نے زیادہ تباہی مچائی۔

تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ فوری طور پر سیلاب کے پانی کو روکنے کے اقدامات کیے جاتے۔ متعلقہ صوبے نے جو فوری طور پر سیلاب کو روکنے کے لیے انتظامات کیے تھے وہ سیلاب کی نذر ہوگئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے متعلقہ حکام مختلف جگہوں سے حفاظتی پشتے توڑنے کے علاوہ غفلت اور بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات ہو رہی ہیں۔

پنجاب کے جنوبی علاقے مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان میں سیاسی تقسیم کی وجہ سے نہر میں کٹ لگانے اور دیگر سیاسی الزامات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان اضلاع سے ایک سو سے زائد درخواستیں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔

رپورٹ

رپورٹ کے مطابق پنجاب کے جنوبی علاقے مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان میں سیاسی تقسیم کی وجہ سے نہر میں کٹ لگانے اور دیگر سیاسی الزامات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان اضلاع سے ایک سو سے زائد درخواستیں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔

صوبہ سندھ کے حوالے سے اس تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکریٹری آبپاشی اور گدو بیراج کے چیف انجنیئر توری بند کی خراب حالت کے بارے میں پوری طرح آگاہ تھے اور ان کے پاس سنہ دو ہزار دس میں آنے والے سیلاب سے پہلے اس بند کی تعمیر کے لیے مناسب وقت تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

رپورٹ میں مذید کہا گیا ہے کہ گدو بیراج کے اس وقت کے چیف انجینیئر اور سیکریٹری آبپاشی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ سیلاب کے پانی کی مقدار کے اخراج کا صیح طور پر اندازہ نہیں لگا سکے جس کی وجہ سے صوبہ سندھ کے تین بڑے شہروں کے علاوہ صوبہ بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں بھی سیلاب نے تباہی مچا دی۔

رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ تونسہ منصوبے کی دوبارہ بحالی اور پانی کے نکاس کے لیے عالمی بینک نے گزشتہ تین دہائیوں سے جو منصوبہ شروع کیا ہے اس کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پیرا ٹیکنیکل سٹاف کی تربیت کے معاملے کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس وقت محکمہ موسمیات کے پاس جو نظام ہے وہ تین سے چار روز کی پیشگی اطلاع دے سکتا ہے۔ پورے ملک میں صرف سات ریڈار نصب ہیں بلوچستان اور شمال مغرب میں ان ریڈار کی کوریج نہیں ہے۔

کمیشن رپورٹ

اس رپورٹ میں محکمہ موسمیات کی کارکردگی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان موسمیات کے عالمی ادارے کا رکن ہے لیکن وہاں سے اس سیلاب کی پیش گوئی سے متعلق کوئی معلومات نہیں لی گئیں۔

رپورٹ میں اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ خطرات سے پیشگی آگاہی کے نظام کو مذید موثر بنایا جائے کیونکہ اس وقت محکمہ موسمیات کے پاس جو نظام ہے وہ تین سے چار روز کی پیشگی اطلاع دے سکتا ہے۔ پورے ملک میں صرف سات ریڈار نصب ہیں بلوچستان اور شمال مغرب میں ان ریڈار کی کوریج نہیں ہے۔

رپورٹ میں دریاں کے اندر اور کناروں پر تجاوزارت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان اسی وجہ سے ہی کیونکہ لوگوں کی کچے کے علاقے میں بااثر افراد نے تجاوزارت قائم کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں ایکٹر اراضی بھی زیر آب آگئی۔ رپورٹ میں اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر ڈالی گئی ہے جنہوں نے بدعنوانی اور لاپرواہی کی وجہ سے اس طرف توجہ نہیں دی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–