سوشل میڈیا کے لیے بھی ضابطۂ اخلاق ضروری

Posted by on Jun 16, 2012 | Comments Off on سوشل میڈیا کے لیے بھی ضابطۂ اخلاق ضروری

پاکستان میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے اور پھر بعض ٹی وی چینلوں کے میزبانوں کے خلاف یکے بعد دیگرے سکینڈلز سوشل میڈیا سامنے لایا ہے اور بظاہر اس معاملے میں وہ روایتی اور پیشہ ور میڈیا پر سبقت لے گیا ہے جو ‘بریکنگ نیوز‘ اچکنے کے لیے جان لگا دیتا ہے۔

سوشل میڈیا میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ مقصدیت اور صداقت کے فقدان کا ہے۔ سوشل میڈیا پر تو بے تحاشہ اطلاعات ہر آدمی دے رہا ہے۔ ان میں کتنی حقائق پر مبنی ہیں اور وہ واقعی بامقصد ہیں؟ وہ واقعی صداقت کے اصولوں پر پورا اترتی ہیں اور ان کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ سب باتیں نہیں ہوتیں۔”

ڈاکٹر توصیف احمد

وہ کہتے ہیں کہ خام اطلاع کے ذریعے کے طور پر تو سوشل میڈیا استعمال ہوسکتا ہے جہاں پہ آنے والے کسی پیغام یا اطلاع کی تصدیق کر کے تو خبر بنائی جاسکتی ہے مگر سوشل میڈیا میں مقصدیت نہ ہونے کا جو پہلو ہے وہ اسے روایتی میڈیا سے بہت پیچھے لے جاتا ہے۔

وہ سوشل میڈیا کی بے مثل طاقت کی قائل نظر آتی ہیں۔ ’آپ کو ٹیلی وژن کے سامنے تو بیٹھنا پڑتا ہے مگر سوشل میڈیا ہر وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ اپنے موبائل فون سے سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا سے ہر لمحہ دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کچھ بھی کہہ سکتے ہیں‘۔

ماروی سرمد انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہیں، پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کی صارفین کی شکایات کے لیے قائم کونسل کی رکن بھی ہیں اور سوشل میڈیا کی سرگرم بلاگرز میں سے ایک ہیں۔

سوشل میڈیا ہر وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ اپنے موبائل فون سے سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا سے ہر لمحہ دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔”

ماروی سرمد

 

ماروی سرمد مزید کہتی ہیں کہ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کی اسی انفرادیت سے انسانی حقوق کے کارکن بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور گمنام رہ کر سوشل میڈیا پر بہت ہی کھل کر اور سخت باتیں کہتے ہیں۔

پاکستان میں روایتی اور پیشہ ور میڈیا خاص طور پر ٹی وی چینلز پر صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزیوں کی کئی مثالیں موجود ہیں، ایسے میں سوشل میڈیا کے سمندر کو کسی ضابطہ اخلاق کو کوزے میں بند کرنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے۔

ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ابلاغ کے دوسرے ذرائع کی طرح سوشل میڈیا پر کے لیے بھی ضابطۂ اخلاق کا ہونا ضروری ہے ورنہ اگر سوشل میڈیا کو بار بار ایسی اطلاعات کے لیے استعمال کیا گیا جو بعد میں غلط ثابت ہوں تو پھر سوشل میڈیا کی اہمیت کم ہوتی چلی جائے گی۔

’سوشل میڈیا میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ مقصدیت اور صداقت کے فقدان کا ہے۔ سوشل میڈیا پر تو بے تحاشہ اطلاعات ہر آدمی دے رہا ہے۔ ان میں کتنی حقائق پر مبنی ہیں اور وہ واقعی بامقصد ہیں؟ وہ واقعی صداقت کے اصولوں پر پورا اترتی ہیں اور ان کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ سب باتیں نہیں ہوتیں‘۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–