سانحگوجرہ کے مقدمات

Posted by on Jun 08, 2011 | Comments Off on سانحگوجرہ کے مقدمات

 

پنجاب کے شہر فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نیگوجرہ میں مسیحی بستی پر حملے اور سات افراد کی ہلاکت کے الزام میں دو مختلف مقدمات میں اہم گواہوں کی عدم دستیابی کی بنا پر ان مقدمات کو داخل دفتر کر دیا ہے۔
عدالت نے یہ حکم سرکاری وکیل کی طرف سے دائر کی جانے والی دو الگ الگ درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے دیا ۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج چودھری محمد منیر احمد نے ملزموں کی طرف سے بریت کے لیے دائر کی جانے والے درخواستیں بھی مسترد کردیں ۔

سرکاری وکیل میاں افضل نے  بتایا کہ عدالت نے دونوں مقدمات کو داخل دفتر کرتے ہوئے ان پر مزید کارروائی ایک سال کے لیے موخر کردی ہے ۔

اگست دو ہزار نو میں پنجاب کے شہر گوجرہ میں مسیحی بستی پر ایک مجمع نے حملہ کردیا تھا جس کے نیتجے میں خواتین اور بچوں سمیت سات مسیحی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ بستی کے گھروں کو جلا دیا گیا تھا۔
ملزموں کی بریت کے لیے دائر درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مقدمات کے گواہوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بیانات سے منحرف ہو چکی ہے اور دیگر گواہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے اس لیے انہیں بری کیا جائے۔

اس پرتشدد واقعہ کے دو مختلف مقدمات درج کیے گئے جن میں سے ایک مقدمہ ہلاکتوں جبکہ دوسرا بستی کے گھروں کو جلانے کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔ ان دونوں مقدمات پر سماعت فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہو رہی ہے ۔

مسیحی بستی میں ہونے والے اس پرتشدد واقعہ کے دو مقدمات میں ستر ملزموں کو نامزد کیا گیا ہے اور ملزموں کی طرف سے بریت جبکہ سرکاری وکیل نے مقدمات کو داخل دفتر کرنے کے لیے درخواستیں کے لیے الگ الگ درخواستیں دائر کی تھیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران ملزموں کی بریت کے لیے دائر درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مقدمات کے گواہوں کی ایک

 

بڑی تعداد اپنے بیانات سے منحرف ہو چکی ہے اور دیگر گواہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے اس لیے انہیں بری کیا جائے۔

اس واقعے کے خلاف ملک بھر میں اقلیتوں نے احتجاج کیا تھا

ملزموں کے وکلا نے مقدمات کو داخل دفتر کرنے کی درخواستوں کی مخالفت کی اور انہیں غیر ضروری قرار دیا ۔

دوسری جانب سرکاری وکیل میاں محمد افضال نے ملزموں کی بریت کے لیے درخواستوں کی مخالفت کی اور کہا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مقدمے کے تمام گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں اور اس مقدمہ کے مدعی اور دیگر زخمیوں کے بطور گواہ بیانات ریکارڈ کرنا بہت ضروری ہیں ۔

سرکاری وکیل نے اپنے موقف کے حمایت میں اعلی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالے دیا اور کہا کہ عینی شاہد کی گواہی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔

میاں محمد افضال ایڈووکیٹ نے مقدمات کو داخل دفتر کرنے کی درخواستوں پر دلائل میں کہا کہ مقدمے کے مدعی اور اہم گواہ اس وقت بیرون ملک ہیں اس لیے ان کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقدمات کو داخل دفتر کردیا جائے تاکہ اس دوران گواہوں کی دستیابی کی صورت میں مقدمات پر دوبارہ کارروائی ہوسکے ۔

عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد بریت کی درخواستوں کو خارج کردیا جبکہ سرکاری وکیل کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے دونوں کو مقدمات داخل دفتر کر دیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–