جسٹس ثاقب نثار کمیشن کے سربراہ مقرر، صحافیوں کا دھرناختم

Posted by on Jun 16, 2011 | Comments Off on جسٹس ثاقب نثار کمیشن کے سربراہ مقرر، صحافیوں کا دھرناختم

حکومت کی طرف سے صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کرانے کے اعلان کے بعد صحافیوں نے اپنا احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
جمعرات کو علی الصبح وفاقی وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوا ن نے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے میں شامل صحافیوں سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے عدالت عظمی کے جج جسٹس ثاقب نثار کو سلیم شہزاد قتل کیس کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیاہے ۔ اس اعلان کے بعد پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر پرویز شوکت نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔
سرکاری بیان کے مطابق جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم اس کمیشن کے دیگر ممبران میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق احمد خان ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (انوسٹیگیشن)پنجاب پولیس اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس شامل ہیں ۔
کمیشن کو چھ ہفتوں میں اپنی رپورٹ اور سفارشات پیش کرنا ہوگی ۔ بیان کے مطابق سلیم شہزاد کے اغوا  اور قتل کے محرکات کے علاوہ کمیشن ایسے اقدامات بھی تجویز کرے گا جس سے مستقبل میں صحافیوں کے خلاف ایسے دہشت انگیزاقدامات کا تدارک کیا جاسکے۔
ایشیا ٹائمز آن لائن کے پاکستان میں بیورو چیف سلیم شہزاد 29 مئی کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے ایک مقامی نیوز چینل کے مذاکرے میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئے جس کے دو روز بعد ان لاش منڈی بہاالدین کے نواح میں ایک نہر سے ملی تھی۔ ان کے قتل کے بعد پاکستان کی صحافتی تنظیموں نے حکومت سے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا۔
حکومت نے ان مطالبات کے جواب میں کمیشن تو قائم کردیا تھا لیکن اس کی سربراہ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق احمد کو بنایاجسے صحافیوں کی تنظیموں نے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ آئین کے تحت وفاقی شرعی عدالت کے جج کے اختیارات محدودہوتے ہیں۔
تاہم پاکستان فیڈ رل یونین آف جرنلسٹس یا پی ایف یو جے کی کال پر بدھ کو پارلیمنٹ ہا س کے سامنے دھرنے کے آغاز کے بعد حکومت نے صحافیوں کے مطالبے کو تسلیم کر لیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–