الیاس کشمیری کی کوئی خبر نہیں: بھائی

Posted by on Jun 05, 2011 | Comments Off on الیاس کشمیری کی کوئی خبر نہیں: بھائی

امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے شدت پسند الیاس کشمیری کے بھائی نے کہا ہے کہ انھیں کشمیری کے بارے میں کوئی علم نہیں تاہم ان کی ہلاکت کی خبر ذرائع ابلاغ سے پتہ چلی ہے۔

الیاس کشمیری کے بھائی چوہدری اصغر نے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے بھمبھر سے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا ہمیں ان ( الیاس کشمیری) کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے اور ہمارا ان کے ساتھ چھ سال سے کوئی رابط نہیں ہے۔

الیاس کشمیری پاکستان کے جنوبی ضلع بھمبھر میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاں تونین تاٹھی کے رہائشی تھے۔ الیاس کشمیری کی بیوی، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا کالج میں پڑھتا ہے اور اس کی عمرسترہ سال ہے، جبکہ چھوٹا بیٹا نو برس کا ہے۔

الیاس کشمیری کا ایک بھائی اور دو بہنیں بھی ہیں۔

الیاس کشمیری پاکستان کے جنوبی ضلع بھمبھر میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاں تونین تاٹھی کے رہائشی تھے۔ الیاس کشمیری کی بیوی تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا کالج میں پڑھتا ہے اور اس کی عمرسترہ سال ہے۔

چوہدری اصغر کا، جو پرائیوٹ ملازمت کرتے ہیں، کہنا ہے کہ ان کی اپنے بھائی سے آخری ملاقات چھ سال پہلے ہوئی تھی جب وہ چھ ماہ کی قید سے رہائی کے بعد گھر آئے تھے اور اسی دوران ان کے والد بھی وفات پا گئے۔

انھوں نے کہا وہ ( الیاس کشمیری) لگ بھگ ایک ماہ گھر پر رہے اور پھر چلے گئیاور دوبارہ گھر واپس نہیں آئے اور نہ ہی انھوں نے آج تک کوئی رابطہ کیا۔

میں نے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ ان کی گرفتاری کی وجہ سے تمام گھر والے پریشان تھے اور اب والد بھی نہیں رہے لہذا گھر میں رہو، کوئی کام یا نوکری کرو اور اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرو لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں وہی کروں گا جو میری مرضی ہو گی، مجھے جہاد کرنا ہے۔

چوہدری اصغر نے بتایا کہ اس کے بعد دونوں بھائیوں کے درمیان ناراضگی ہو گئی اور وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ راولپنڈی منتقل ہو گئے۔اسی دوران انہیں معلوم ہوا کہ الیاس کشمیری گھر سے چلے گئے ہیں لیکن چوہدری اصغر کے مطابق انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں گئے۔

چوہدری اصغر نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے بھائی چھ ماہ تک کس کی قید میں رہے البتہ اس وقت علاقے میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ پاکستان کے خیفہ اداروں کی تحویل میں تھے۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے بھی وہ چھ ماہ مبینہ طور پر خفیہ اداروں کی تحویل میں رہے تھے۔

میں نے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ ان کی گرفتاری کی وجہ سیتمام گھر والے پریشان تھے اور اب والد بھی نہیں رہے لہذا گھر میں رہو، کوئی کام یا نوکری کرو اور اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرو لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں وہی کروں گا جو میری مرضی ہو گی، مجھے جہاد کرنا ہے۔

اصغر چوہدری

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کے اس وقت کے فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں برسرِپیکار پاکستان کی شدت پسند تنظیوں کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قیامِ امن کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔

الیاس کشمیری کا عسکری گروہ حرکت جہاد اسلامی 313 بریگیڈ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں مبینہ طور پر بھارتی فوج کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے۔

چوہدری اصغر نے کہا کہ پہلے ان کے دوستوں نے انھیں بتایا کہ ٹی وی پر خبر آرہی ہے کہ وہ ( الیاس کشمیری) امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں، اور یہ سنتے ہی وہ ٹی وی کی جانب لپکے۔

چوہدری اصضر کے مطابق ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے، ہم پتہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم پریشان ہیں، کبھی سوچتے ہیں کہ یہ خبر سچ ہے اور کبھی لگتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–