اسامہ کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف ایمن الظواہری

Posted by on Jun 17, 2011 | Comments Off on اسامہ کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف ایمن الظواہری

امریکہ کی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن نے کہا ہے کہ امریکہ اسامہ بن لادن کی طرح ایمنالظواہری کو بھی ڈھونڈ کر ہلاک کرے گا۔امریکی فوج کے سربرا ہ کا کہنا ہے کے اسامہ کے بعد الظواہری امریکہ کے لیے سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران ایڈمرل مائیک ملن کا کہنا تھا کہ ہم یقینا ایمن الظواہری کو گرفتار یا ہلاک کریں گے جیسا کہ ہم نے اسامہ بن لادن کو کیا۔القاعدہ کی جنرل کمانڈ کی طرف سے جاری ہونیوالے ایک بیان کے مطابق اسامہ بن لادن کے نائب انسٹھ سالہ ایمن الظواہری کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔لیڈرشپکے لیے ان(ایمن الظواہری)کے انتخاب سے القاعدہ میں اگرتنظیم کے اندر  باغیوں یا تنظیم سے علیحدگی کے واقعات سامنے نہیں آئیں گے تو کم از کم اس انتخاب پر تنقید ضرور ہوگی۔اامریکی پعوگرام  رواں سال دو مئی کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایک امریکی فوجی کارروائی میں ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسامہ بن لادن کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کیا گیا تھا۔امریکی فوج کے سربراہ نے کہا کہ ایمن الظواہری کے القاعدہ کے سربراہ بننے کیسے انھیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی ہے۔ایمن الظواہری کئی سال تک اسامہ بن لادن کے نائب کے طور پر کام کرتے رہے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ نائن الیون حملوں کے پیچھے عملی طور پر ان ہی کا دماغ کارفرما تھا۔تاہم امریکی حکام اور تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصری نژاد الظواہری ایک ذہین شخص ہیں لیکن ان کی شخصیت میں وہ کرشمہ نہیں جو اسامہ بن لادن میں تھا۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اوباما انتظامیہ کے ایک افسر نے کہا کہلیڈرشپ کے لیے ان( ایمن الظواہری) کے انتخاب سے القاعدہ میں اگر منحرفین یا تنظیم سے علیحدگی کے واقعات سامنے نہیں آئیں گے تو کم از کم اس انتخاب پر تنقید ضرور ہوگی۔ایمن الظواہری کئی سال تک اسامہ بن لادن کے نائب کے طور پر کام کرتے رہے ہیںان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الظواہری کے لیے ایسے حالات میں القاعدہ کی لیڈر شپ کرنا مشکل ہوگا جبکہ ان کا توجہ اپنی بقا پر ہوگی۔ خیال رہے کہ اسامہ کی ہلاکت کے  بعد اپنے ایک بیان میں ایمن الظواہری نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن اپنی قبر سے بھی امریکیوں کو خوفزدہ کرتا رہے گا۔ القاعدہ کے نئے سربراہ کی ترجیحات میں

 

ممکنہ طور پر ایک ایسا بڑا حملہ بھی شامل ہو سکتا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ تنظیم اب بھی سرگرم ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ الظواہری مشرقِ وسطی میں بیچینی کی لہر کو القاعدہ کے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیں گے اور اس کے لیے وہ یمن میں اپنی طاقت میں اضافے اور وہاں عدم استحکام لانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسامہ کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے اگلے سربراہ کے طور پر الظواہری کا نام ہی سب سے واضح تھا لیکن اس بات کے عام ہونے میںتاخیر ممکنہ طور پرالقاعدہ کی اعلی لیڈرشپ میں تنازعات کا نتیجہ تھی۔

 

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–