یورو زون بحران: غریبوں کی امداد میں کمی

Posted by on Jun 25, 2012 | Comments Off on یورو زون بحران: غریبوں کی امداد میں کمی

ایک رپورٹ کے مطابق یورو زون میں قرض کے بحران کے سبب غریب ممالک کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی کی گئی ہے۔

امداد پر نظر رکھنے والے ادارے ڈیٹا کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ایک دہائی میں کُل یورپی سطح پر امداد میں واضح کمی نظر آئی ہے۔

سال دو ہزار دس گیارہ میں قرض کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ممالک سپین اور یونان نے اپنی جانب سے دی جانے والی امداد کی مد میں سب سے زیادہ کٹوتی کی ہے۔

اس کے باوجود مجموعی طور پر پورے یورپی ممالک میں غریب ممالک کی ترقیات کے لیے دی جانے والی امداد میں ایک اعشاریہ پانچ فی صد کی کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’نئے اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یورپی معاشی بحران کے اثرات دنیا کے غریب ترین لوگوں تک پہنچے ہیں۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یورپی اتحاد میں بچت پروگرام کے تحت امداد میں کٹوتیوں کے اثرات زندگی بچانے والے امدادی پروگراموں پر بھی پڑنے لگے ہیں۔‘

“اس سے سب سے زیادہ افریقی ممالک متاثر ہونگے جن میں مثال کے طور پر موزیمبیق، تنزانیہ، ملاوی وغیرہ شامل ہیں”

ایڈرین لووٹ

سال دو ہزار دس گیارہ میں سپین نے اپنے بجٹ میں ایک تہائی کی کٹوتی کی۔ واضح رہے کہ سپین یورپ کی چھٹی بڑی معیشت ہے۔

یہ رپورٹ امداد فراہم کرنے والی ایجنسیوں کی لابی کے نتیجے میں اس موقع پر شائع کی گئی ہے جب یورپی ممالک کے رہنما آئندہ سات سالوں کے لیے یورپی بجٹ پر بات چیت شروع کر رہے ہیں۔

عالمی سطح پر ترقیاتی پروگراموں کے لیے جس قدر بھی امداد دی جاتی ہے ان میں سے نصف سے زیادہ یورپی ممالک سے آتے ہیں۔

ان میں سے کئی ممالک اقوام متحدہ کے غریبی ختم کرنے کے پروگرام کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں جس کے تحت امداد میں دی جانے والی قومی رقم کا صفر اعشاریہ سات فیصد دیا جاتا ہے۔

ابھی تک سب سے زیادہ امداد فراہم کرنے والے ممالک میں جرمنی (چودہ ارب امریکی ڈالر یا قومی آمدنی کا صفر اعشاریہ تین نو فیصد)، برطانیہ (ساڑھے تیرہ ارب امریکی ڈالر یا قومی امدنی کو صفر اعشاریہ پانچ پانچ فی صد) اور فرانس (بارہ ارب امریکی ڈالر یا قومی آمدنی کا صفر اعشاریہ چار دو فیصد) شامل ہیں۔

اس رپورٹ کے اہم مصنفین میں سے ایک ایڈرین لووٹ نے کہا کہ اس کٹوتی سے سب سے زیادہ افریقہ کے غریب ممالک متاثر ہوں گے۔

انھوں نے کہا ’اس سے سب سے زیادہ افریقی ممالک متاثر ہوں گے جن میں مثال کے طور پر موزیمبیق، تنزانیہ، ملاوی وغیرہ شامل ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’فی الحال انھیں امداد کی سخت ضرورت ہے کیونکہ وہاں روزانہ کی بنیاد پر زندگی بچانے کا سوال ہے۔‘

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here