یقینی فتح کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت: حنا ربانی

Posted by on Jun 15, 2012 | Comments Off on یقینی فتح کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت: حنا ربانی

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سب ممالک کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فتح ہماری ہو۔

ہانے تراشنے نہیں چاہیئیں

“ہم یہ بات جانتے ہیں کہ زمینی صورتحال درحقیقت بہت پیچیدہ ہے اور اسی وجہ سے ہمیں بہانے تراشنے نہیں چاہیئیں کہ ہم اس سے زیادہ بہتر نہیں کر سکتے جو ہم کر سکتے ہیں”

حنا ربانی کھر

وزیر خزانہ حنا ربانی کھر کے مطابق ’مثلاً اگر آج سے پانچ دن بعد سلالہ چیک پوسٹ پر جہاں ہم نے اپنے چوبیس فوجی کھوئے، ہمارا ایک اور فوجی ہلاک کر دیا جاتا ہے اور اسے مارنے والے سرحد پار سے آئے ہوں تو کیا پاکستان میں کوئی یہ کہے گا کہ یہ افغان یا امریکی فوج کا کام ہے یا وہ اس کی اجازت دے رہے ہیں یا اسے نظرانداز کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم پر جو مشترکہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ہم انہیں اٹھانے کے لیے تیار ہیں اور میں امید کرتی ہوں کہ ہم میں سے ہر کوئی اور ہم سب مل کر ان ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوں گے اور پھر ایک دوسرے کی بجائے ان سے نمٹنے کا منصوبہ تیار کریں گے۔

’ہم یہ بات جانتے ہیں کہ زمینی صورتحال درحقیقت بہت پیچیدہ ہے اور اسی وجہ سے ہمیں بہانے تراشنے نہیں چاہیئیں کہ ہم اس سے زیادہ بہتر نہیں کر سکتے جو ہم کر سکتے ہیں۔‘

’انہیں امید ہے کہ اگر ہم اس طریقے سے آگے بڑھتے ہیں جو پاکستان کا مقصد ہے تو ہم اس بظاہر دکھائی دینے کی صورتحال سے باہر نکل آئیں گے۔‘

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدے سے آگے جانا چاہتا ہے۔

علاقائی تعاون

“ہماری کوشش ہے کہ ہمارے تعلقات خطے کے ہر ملک کے ساتھ پرامن ہوں۔ اور اگر ہم اس خطے کے شہری ہونے کا احساس بیدار کر لیں تو میں اپنے دائیں یا بائیں یا مشرق یا مغرب میں موجود شخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ اگر میں ایسا کرتی ہوں تو میں اپنی قومیت کے لوگوں کو نقصان پہنچاؤں گی”

حنا ربانی کھر

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے مستقبل جڑے ہوئے ہیں اور اسی لیے ہم سٹریٹیجک معاہدے سے آگے کا سوچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں آپریشن کے آغاز کے سے اب تک پاکستان کو معاشی طور ستر ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ شدت پسندوں کے واقعات اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے تیس ہزار شہری اور چھ ہزار کے قریب فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

’ہماری کوشش ہے کہ ہمارے تعلقات خطے کے ہر ملک کے ساتھ پرامن ہوں۔ اور اگر ہم اس خطے کے شہری ہونے کا احساس بیدار کر لیں تو میں اپنے دائیں یا بائیں یا مشرق یا مغرب میں موجود شخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ اگر میں ایسا کرتی ہوں تو میں اپنی قومیت کے لوگوں کو نقصان پہنچاؤں گی۔‘

افغانستان کے دیگر ممالک کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک افغانستان کا چین یا کسی اور ملک کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدے کا تعلق ہے وہ افغانستان کا خودمختار فیصلہ ہے۔ اس خطے کے ممالک کے ساتھ معاہدے ایک اچھا خیال ہے اور میرے خیال میں علاقائی ممالک پر توجہ اہم ہے۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ان کا ملک معاشی مشکلات کے باوجود اس وقت خوش دلی سے پینتیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ ہم یہ کہتے رہے ہیں کہ ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یقینی بنایا جائے کہ فتح ہماری ہو۔‘

وزیر خارجہ نے مزید کہا’اس لیے اگر وہ اس وقت تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تو وہ اس میں کامیاب ہیں اور اور ہم اپنے وسائل، قوت اور افواج کو اکٹھا کر کے ان کے سامنے بطور ایک مشترکہ قوت کے طور پر کھڑے ہونے کے معاملے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔‘

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی سفارت خانے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزامات کے حوالے سے کہا کہ ’سمجھا یہ جا رہا ہے کہ پاکستان کسی نہ کسی طریقے سے صرفِ نظر کرتا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی حمایت کرتا ہے یا زیادہ کچھ نہیں کرتا۔ الفاظ کچھ بھی ہوں مطلب یہی ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کو پھلنے پھولنے میں مدد دیتا ہے۔‘

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here