ہڑتال کرنے والے ڈاکٹر گرفتار، فوجی ڈاکٹر ڈیوٹی پر

Posted by on Jul 02, 2012 | Comments Off on ہڑتال کرنے والے ڈاکٹر گرفتار، فوجی ڈاکٹر ڈیوٹی پر

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تنخواہوں میں اضافے اور نئے سروس سٹرکچر کے لیے ہڑتال کرنے والے درجنوں ڈاکٹروں کو گرفتار کر کے نظر بند کر دیا گیا ہے۔

ادھر فوجی ڈاکٹروں کی آمد کے بعد لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کے بیرونی مریضوں کے شعبوں میں کام دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس نے اتوار کو رات گئے تیس سے زائد ڈاکٹروں کو حراست میں لیا۔

ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں کی گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم کا اجلاس ہو رہا تھا جس میں ہڑتال کے بارے میں آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کیا جانا تھا۔

 پنجاب حکومت کی درخواست پر فوج کی میڈیکل کور کے ایک سو پچاس ڈاکٹروں نے بھی پیر سے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی دینی شروع کر دی ہے جس کے بعد مقامی ہسپتالوں کے بیرونی مریضوں کے شعبوں نے ایک بار پھر کام شروع کر دیا ہے۔

ان ڈاکٹروں کی مدد کے لیے دیگر شہروں سے طبی عملے کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں سینیئر ڈاکٹر مریضوں کے علاج معالجے میں مصروف ہیں۔

پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں پیر کو پولیس مامور کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔

پنجاب حکومت نے دیگر ڈاکٹروں کو ہڑتال کےاکسانے کا الزام عائد کر کے ان چوبیس نوجوان ڈاکٹروں کو برطرف بھی کر دیا ہے جو ایک سال کے لیے ایڈہاک بنیادوں پر کام کر رہے تھے۔

ادھر صوبائی مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں سے ہسپتالوں کا نظام مفلوج ہو گیا تھااور حکومت نے مجبوری میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودہ دنوں تک نوجوان ڈاکٹروں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ وہ ہڑتال ختم کردیں۔

لاہور کے میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈاکٹروں کے کام چھوڑنے سے ایک بچے کی موت کا مقدمہ بھی ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے رات گئے جن ڈاکٹروں کو حراست میں لیا ہے ان میں نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے اہم عہدیدار شامل نہیں ہے۔ پولیس کی کارروائی سے قبل ہی تنظیم کے عہدیدار پولیس جل دینے میں کامیاب ہوگئے۔

دوسری طرف ینگ ڈاکٹرز کی گرفتاری کے ردعمل میں لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں نوجوان ڈاکٹروں نے کام چھوڑ دیا۔تاہم حکومت نے فوری طور مبتادل انتظامات کرتے ہوئے سینیئر ڈاکٹروں کو بھی طلب کرلیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس کی بھاری نفری نے سروسز ہسپتال کے ڈاکٹر ہاسٹل کو رات گئے گھیرے میں لے لیا اور عین اس وقت دھاوا بول دیا جب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کا اجلاس ہو رہا تھا۔

پولیس نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی گرفتاری کے لیے ہاسٹل کے کمروں کے دروازے توڑ دیے اور جب پولیس کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں موجود ڈاکٹر پچھلے راستے سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔

پنجاب میں نوجوان ڈاکٹر گزشتہ دو ہفتوں سے ہڑتال پر ہیں اور سرکاری ہسپتالو ں میں کام کرنے والے ان نوجوان ڈاکٹروں کا یہ مطالبہ ہے کہ پنجاب حکومت ان کے سروس سٹرکچر کا اعلان کرے۔

ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے حکومتی کارروائی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

انہوں نے بتایاکہ سینئر ڈاکٹروں نے بھی ہڑتالی ڈاکٹروں کو قائل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مہلت مانگی لیکن نوجوان ڈاکٹروں نےاپنے سینئر ڈاکٹروں کی بات بھی نہیں مانی۔

خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ہسپتالوں میں معاملات کو معمول کے مطابق چلانے کے لیے بندوبست کرلیا ہے اور ان کے بقول پیر کے روز سے ہسپتالوں میں معمول کے مطابق کام ہوگا۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے اجلاس میں بیس سے زیادہ رہنماء موجود تھے تاہم پولیس اب تک صرف ایک عہدیدار عامر بندیشہ کو گرفتار کرسکی ہے۔ پولیس نے ہاسٹل میں تلاشی لی اور وہاں موجود ڈاکٹروں کو حراست میں لے کر انہیں شہر کے مختلف تھانوں میں منتقل کردیا ہے۔

صوبائی مشیر صحت کے مطابق نوجوان ڈاکٹروں کی اکثریت ہڑتال کی حامی نہیں ہے اور ہر ہسپتال میں آٹھ دس ایسے ڈاکٹر ہیں جو دیگر ڈاکٹروں کو ہڑتال پر مجبور کر رہے تھے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here