ہڑتال نہ کرنے کی یقین دہانی پر ڈاکٹر رہا

Posted by on Jul 04, 2012 | Comments Off on ہڑتال نہ کرنے کی یقین دہانی پر ڈاکٹر رہا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے ہڑتال ختم کر کے بدھ سے دوبارہ کام شروع کرنے کی یقین دہانی کروانے والے ڈاکٹرز کی نظربندی ختم کر کے انہیں رہا کرنا شروع کر دیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کی پولیس نے سروس سٹرکچر اور تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہڑتال کرنے والے تیس سے زائد ڈاکٹروں کو اتوار کی شب حراست میں لیا تھا اور انہیں کوٹ لکھپت جیل میں نظربند کر دیا گیا تھا۔

ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں کی گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم کا اجلاس ہو رہا تھا جس میں ہڑتال کے بارے میں آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کیا جانا تھا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ اعجاز چانڈیو نے کہا کہ نوجوان ڈاکٹروں کے بغیر ہسپتالوں کا کام نہیں چل سکتا کیونکہ جہاں بیس ڈاکٹر کام کرتے ہیں وہاں ایک ڈاکٹر کیا کرسکتا ہے اس لیے حکومت مہربانی کرکے ڈاکٹروں کو رہا کرے۔

لاہور کے ضلعی رابطہ آفیسر کے ترجمان طارق زمان کے مطابق اب تک نظربند کیے جانے والے تینتیس ڈاکٹروں میں سے چوبیس ڈاکٹروں کی نظربندی کے احکامات واپس لے لیے گئے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ جن نوجوان ڈاکٹروں کی نظربندی ختم کی گئی ہے انہوں نے تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہڑتال ختم کر کے بدھ سے کام شروع کردیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق رہائی پانے والے ڈاکٹروں نے ایوان وزیراعلیٰ میں صوبائی وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ خان اور صوبائی مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق سے ملاقات کی اور ہڑتال سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

صوبائی مشیر صحت سلمان رفیق کہنا ہے کہ سینیئر ڈاکٹروں کی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے بدھ کو ہونے والی ملاقات میں ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر کے بارے میں غور کیا جائے گا

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ خان نے اعلان کیا کہ ہڑتال کرنے والوں ڈاکٹروں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

“رہائی اسی کی ہوگی جو خود کو ہڑتال سے علیحدہ کرے گا کیونکہ ہڑتال قابلِ قبول نہیں ہے۔”

رانا ثناء اللہ خان

رانا ثنا اللہ خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ رہائی اسی کی ہوگی جو خود کو ہڑتال سے علیحدہ کرے گا کیونکہ بقول ان کے ہڑتال قابل قبول نہیں ہے۔

رہا ہونے والے ڈاکٹروں میں ایک ڈاکٹر تحسین رضا کا کہنا ہے کہ دیگر نظر بند ڈاکٹروں کی رہائی کے لیے بات کی جا رہی ہے اور جلد ہی باقی نظربند ڈاکٹروں کی رہائی عمل میں آجائے گی۔

ادھر لاہور ہائیکورٹ نے ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کرنے کی درخواست پر صوبائی محکمہ صحت اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو چھ جولائی کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

نوجوان ڈاکٹروں کی گرفتاری کے خلاف لاہور میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں گرفتار ڈاکٹروں کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر نوجوان ڈاکٹروں کی رہائی کے مطالبات درج تھے۔

دوسری طرف میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن نے نوجوان ڈاکٹروں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت پنجاب کے متبادل انتظامات کی وجہ سے ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج تو شروع ہوگیا تاہم ڈاکٹروں کی تعداد کم ہونے سے مریضوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

دوسری طرف کئی نوجوان ڈاکٹروں نے اپنی تنظیم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کام پر واپس آگئے ہیں۔

مقامی شہری اظہر صدیق نے اپنی درخواست میں کہا کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال ان کے حلف کے منافی ہے اس لیے ہڑتالی ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here