ہالینڈ کی ٹیم کو نسل پرستی کی شکایت

Posted by on Jun 08, 2012 | Comments Off on ہالینڈ کی ٹیم کو نسل پرستی کی شکایت

یورو 2012 فٹبال مقابلوں میں شرکت کے لیے پولینڈ میں موجود ہالینڈ کی ٹیم کے سیاہ فام ارکان پر مبینہ طور پر نسل پرستانہ فقرے کسے گئے ہیں۔

یہ واقعہ پولینڈ کے شہر کارکو میں ٹیم کے تربیتی سیشن کے دوران پیش آیا اور ہالینڈ کی ٹیم کپتان مارک وین بومل نے کہا ہے کہ یہ ’حقیقت میں بےعزتی تھی‘۔

یہ واقعہ ہالینڈ کی ٹیم کے آشوٹز میں واقع نازی کیمپ کا دورہ کرنے کے اگلے ہی دن پیش آیا ہے۔ مارک بومل نے کہا ’یہ بہت بےعزتی کی بات ہے خصوصاً جب آپ آشوٹز سے واپس آئے ہوں اور آپ کے ساتھ ایسا سلوک ہو‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم اس معاملے کو یوئیفا میں اٹھائیں گے اور اگر کسی میچ میں ایسا ہوا تو ہم ریفری سے بات کریں گے کہ وہ ہمیں میدان سے باہر لے جائے‘۔

جب ہالینڈ کے کھلاڑی میدان پر دوڑ رہے تھے تو پانچ سو کے قریب مقامی شائقین نے سیاہ فام کھلاڑیوں پر فقرے کسے۔ دوسرے چکر میں یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا جس کے بعد کپتان اپنی ٹیم کو میدان کے دوسرے حصے کی جانب لے گیا۔”

 مارٹن لپٹن، ڈیلی مرر

:برطانوی وزراء کا بائیکاٹ

ادھر برطانوی حکومت کے وزراء نے یوکرین میں انگلش ٹیم کے گروپ میچوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ قدم یوکرین میں مقید اپوزیشن رہنما یولیا ٹیموشینکو سے روا رکھنے جانے والے سلوک کے خلاف احتجاجاً اٹھایا گیا ہے۔

برطانیہ کے علاوہ جرمنی، ہالینڈ اور آسٹریا نے بھی ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔

برطانیہ میں یوکرین کے سفیر کا کہنا ہے کہ ’سیاست اور کھیل کو ملانا نہیں چاہیے اور خدشات ظاہر کرنے کے اور بھی طریقے ہیں‘۔

یولیا ٹیموشنکو نے دو ہزار چار کے ’نارنجی انقلاب‘ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ مبینہ کرپشن کے لیے ان کی قید یوکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ کی جانب سے سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔

کارکو میں موجود برطانوی اخبار ڈیلی مررر کے نمائندے مارٹن لپٹن نے بی بی سی ریڈیو فائیو کو بتایا کہ ’جب ہالینڈ کے کھلاڑی میدان پر دوڑ رہے تھے تو پانچ سو کے قریب مقامی شائقین نے سیاہ فام کھلاڑیوں پر فقرے کسے۔ دوسرے چکر میں یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا جس کے بعد کپتان اپنی ٹیم کو میدان کے دوسرے حصے کی جانب لے گیا‘۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here