گیلانی کی نااہلی کے فیصلے پر بحث جاری

Posted by on Jun 28, 2012 | Comments Off on گیلانی کی نااہلی کے فیصلے پر بحث جاری

اکستان کے وزیراعظم کے عہدے سے سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا کی بنیاد پر نااہل قرار دینے والے سپریم کورٹ کے فیصلے پر جہاں عالمی ذرائع ابلاغ میں تنقید کی جا رہی ہے اور اسے عدالتی بغاوت سے تعبیر کیا جا رہا ہے وہاں پاکستانی وکلا اور سول سوسائٹی نے بھی ’جوڈیشل ایکٹوازم‘ پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

اسی تناظر میں بھارتی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج مارکھنڈے کاٹجو کی جانب سے پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کو نہ صرف پاکستانی میڈیا میں نمایاں کوریج دی گئی بلکہ فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پر بھی اس کا چرچا رہا۔

جسٹس کاٹجو نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں اور اپنے مضامین میں کہا تھا کہ توہین عدالت کے معاملے میں وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر پاکستانی سپریم کورٹ نے حد کر دی ہے۔ ان کے مطابق ’جوڈیشل ایکٹوازم‘، ’جوڈیشل ریسٹرینٹ‘ یا عدالتی تحمل سے جڑا ہوتا ہے اور پاکستانی عدلیہ میں انہیں تحمل نظر نہیں آتا۔

اس کے برعکس بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج اور سینیئر وکیل طارق محمود، جسٹس مارکھنڈے کاٹجو کے مؤقف سے جزوی طور پر اتفاق کرتے ہیں۔ ’میں اس حد تک ان سے ضرور اتفاق کروں گا جو آپ کو انٹرویو بھی دیا اور کہا کہ جوڈیشل ایکٹوازم جڑا ہوا ہے جوڈیشل ریسٹرینٹ کے ساتھ۔ لوگ کہتے ہیں کہ فیصلہ آنا چاہیے اور بیشک آسمان گر پڑے، میں اس بات کو نہیں مانتا‘۔

جسٹس مارکھنڈے کاٹجو کا مضمون اور بی بی سی کو دیا گیا انٹرویو ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ وکلا برادری میں بھی زیر بحث رہا ہے اور وکلا برادری میں ان کے موقف پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

کچھ پاکستانی وکلا کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج حقائق سے واقف نہیں ہیں۔ ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ ’بالکل بیوقوفانہ بات کی ہے کاٹجو صاحب نے جب وہ کہتے ہیں کہ عدالتی دائرہ کار کو کوئی چیلنج کرے تو توہین عدالت لگا دیں گے۔ یہاں ایسی صورت نہیں تھی، یہاں حتمی فیصلہ آنے کے بعد ایک شخص کہہ رہا ہے فیصلہ تو حتمی ہے، سپریم کورٹ کا ہے، نظرثانی بھی ختم ہے، میں اس کو نہیں مانوں گا کیونکہ یہ میری نظر میں غلط تھا یا ان کا دائرۂ کار نہیں تھا‘۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ اس میں جو بھی نقائص تھے وہ اپیل میں ٹھیک ہوسکتے تھے لیکن یوسف رضا گیلانی نے اپیل نہ کر کے غلطی کی۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ جس روز ‘فارن پالیسی اینڈ فنڈ فار پیس‘ نے ناکام ریاستوں کی فہرست میں پاکستان کی رینکنگ بہتر کرتے ہوئے اُس کا درجہ بارہ سے تیرہ ہونے کا اعلان کیا، اُسی روز سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں کہتا ہوں کہ جب آپ کوئی فیصلہ دیں تو اس میں اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ اس پر عمل ہو۔ چھوٹا موٹا میں بھی جج رہا ہوں اور جب فیصلوں پر عمل نہ ہو تو جج صاحبان کو سوچنا چاہیے کہ فیصلہ وہ ہو جس پر عمل ہو ایسا فیصلہ نہ ہو جس پر توہین عدالت کی دھمکیوں سے عمل کرایا جائے۔ اگر ایسا ہوگا تو وہ فیصلہ نہیں ہوگا‘۔

“لوگ کہتے ہیں کہ فیصلہ آنا چاہیے اور بیشک آسمان گر پڑے، میں اس بات کو نہیں مانتا۔ میں کہتا ہوں کہ جب آپ کوئی فیصلہ دیں تو اس میں اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ اس پر عمل ہو۔ چھوٹا موٹا میں بھی جج رہا ہوں اور جب فیصلوں پر عمل نہ ہو تو جج صاحبان کو سوچنا چاہیے کہ فیصلہ وہ ہو جس پر عمل ہو ایسا فیصلہ نہ ہو جس پر توہین عدالت کی دھمکیوں سے عمل کرایا جائے۔ اگر ایسا ہوگا تو وہ فیصلہ نہیں ہوگا۔”

جسٹس (ر) طارق محمود

انہوں نے کہا کہ عدالت رجسٹرار کے ذریعے سوئس حکام کو خط لکھوا دے کیونکہ جب وزیراعظم نے نہیں لکھا تو اور کون لکھے گا؟

جسٹس (ر) طارق محمود کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے تحمل سے کام نہیں لیا اور دوسرے آئینی اداروں کے حدود میں دخل دیا ہے۔ ان کے بقول عدالت کو سپیکر کے فیصلے کو غلط قراردینے کے بعد آگے نہیں بڑھنا چاہیے تھا اور معاملہ الیکشن کمیشن میں جاتا، عدالت نااہل قرار دینے کا حکم نہ سناتی۔

عالمی میڈیا میں تنقید

یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے اور انہیں عوامی عہدے کے لیے نا اہل قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عالمی میڈیا میں بھی کڑی تنقید کی گئی اور امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس فیصلے کو جمہوریت کے خلاف عدالتی بغاوت قرار دیا گیا ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق نواز شریف اور عمران خان کی جماعتوں کی جانب سے فیصلے کے خیرمقدم اور خوشیوں سے یہ فیصلہ سیاسی معلوم ہوتا ہے۔ اخبار کے مطابق سول توہین کے کیس میں وزیراعظم کی نا اہلی کا فیصلہ اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دینے کے فیصلے پر پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان نے اپنے اداریہ میں عدالتی فیصلے کو بدقسمت اور غیر معمولی قرار دیا ہے جبکہ دی نیوز نے عدالتی فیصلے کی تعریف میں لکھا ہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کی ویب سائٹ پر اس مضمون پر بڑے دلچسپ تبصرے بھی شائع کیے گئے ہیں۔ رامانت نیلا کنتن نامی شخص نے تبصرہ کیا ہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے جج مُلاؤں اور القاعدہ کا ٹولا ہے۔ انہوں نے سوال پوچھا ہے کہ ایسے ملک کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ کیوں بھیجا جا رہا ہے۔

لیکن ایک گمنام شخص جس نے خود کو سچ بولنے والے کا نام دیا ہے، اپنے تبصرے میں کہا ہے کرپٹ حکمرانوں کو ہٹانے کے لیے عدلیہ نے درست فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم کو نااہل قرار دینے والے فیصلے پر برطانوی اخبار ڈیلی میل اور ٹائمز آف انڈیا میں بھی تبصرے شائع ہوئے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے سیاسی عدم استحکام پیدا کیا ہے اور مستقبل میں جمہوریت سے تصادم کا راستہ کھول دیا ہے۔

عالمی اور مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں یوسف رضا گیلانی کو نااہل قراد دینے پر تبصرے اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت ہے کہ عدلیہ کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ پر پہلے بظاہر اتنی تنقید نہیں ہوئی جتنی اس فیصلے پر ہو رہی ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here