گیلانی حکومت، چار سال ایک ماہ ایک دن

Posted by on Jun 20, 2012 | Comments Off on گیلانی حکومت، چار سال ایک ماہ ایک دن

سید یوسف رضا گیلانی طویل عرصہ تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے کے باوجود اپنے عہدے کی آئینی معیاد مکمل نہ کر سکے اور ان کا نام بھی ان وزرائے اعظم کی فہرست میں شامل ہوگیا جن کو قبل از وقت اپنے عہدے سے الگ ہونا پڑا۔

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے بعد یوسف رضا گیلانی دوسرے وزیر اعظم ہیں جو طویل عرصہ یعنی چار سال ایک ماہ ایک دن تک وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہے اور اپنے خلاف عدالتی فیصلہ کی بناء پر نااہل ہوئے۔

یوسف رضا گیلانی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے چوتھے وزیر اعظم ہیں جو اپنے منصب کی آئینی مدت پوری نہیں کر سکے۔ ان سے پہلے جماعت کے بانی سربراہ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بینظیر بھٹو بھی معیاد پوری نہیں کر سکیں تھیں۔

نوابزادہ لیاقت علی خان لگ بھگ چار سال دو ماہ تک وزیر اعظم کے عہدے پر رہے اور ان کو سولہ اکتوبر انیس سو اکیاون کو وارلپنڈی میں ایک جلسے کے دوران گولی ماری دی گئی تھی۔

نااہل ہونے والے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی مارچ دو ہزار آٹھ کو وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے مدمقابل کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا جس کے باعث ان کو بلامقابلہ اور متفقہ طور وزیر اعظم ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت ختم ہوئی ہے لیکن اس کا اقتدار باقی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو اپنے عہدے کی معیاد مکمل کرنے کے بعد جب دوسری بار وزیر اعظم چنے گئے تو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا کر ان کی حکومت ختم کر دی۔ بینظیر بھٹو دو مرتبہ اقتدار میں آئیں تاہم دونوں بار ان کی حکومت قبل از وقت ختم کر دی گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو کو چار اپریل انیس سو اناسی کو پھانسی دی گئی تھی۔

اس سے پہلے چھبیس جون سنہ دوہزار چار میں مسلم لیگ قاف کے میر ظفر اللہ خان جمالی نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیْ دیا تھا جس کے بعد مسلم لیگ قاف کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کو نیا وزیر اعظم بنایا گیا اور پھر شوکت عزیر وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

سابق وزراء اعظم خواجہ ناظم الدین اور ذوالفقار علی بھٹو میں یہ قدر مشترکہ ہے کہ دونوں وزیر اعظم بننے سے پہلے بالترتیب گورنر جنرل پاکستان اور صدر پاکستان کے عہدے فائز تھے۔

خواجہ ناظم الدین نہ صرف ملک کے دوسرے گورنر جنرل تھے بلکہ ملک کے دوسرے وزیر اعظم بننے کا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو یہ اعزاز ملا کہ ملک کے پہلے صدر بنے اور پھر پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

یوسف رضا گیلانی تیسرے وزیر اعظم تھے جن کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔ ان سے پہلے پنجاب سے وزیر اعظم بننے والوں میں مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اور مسلم لیگ قاف کے سربراہ شجاعت حسین شامل تھے۔

مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے دو مرتبہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا اور واحد وزیر اعظم ہیں جن کی صدارتی حکم پر تحلیل ہونے والی حکومت اورقومی اسمبلی کو سپریم کورٹ نے بحال کیا تھا۔

مسلم لیگ قاف کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سب سے کم مدت یعنی اکیاون تک ملک کے وزیر اعظم رہے جبکہ سید یوسف رضاگیلانی کے بعد اب منتخب ہونے والے نئے وزیر اعظم کے پاس عہدے پر فائز رہنے کے لیے لگ بھگ دو سو چوالیس دن ہوں گے۔

بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں ان کے خلاف اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تاہم یہ تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہو سکی۔

یوسف رضاگیلانی ملک کے تیسرے ایسے وزیر اعظم ہیں جن کی حکومت تو ختم ہوئی لیکن قومی اسمبلی قائم ہے اور اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے پہلے نئے وزیر اعظم کا چناؤ کرے گی۔

اس طرح گزشتہ قومی اسمبلی نے اپنی آئینی مدت مکمل کرتے ہوئے تین وزیر اعظم منتخب کیے جبکہ موجودہ قومی اسمبلی اپنے معیاد مکمل کرنے سے پہلے دوسرا وزیر اعظم چنے گی۔

یوسف رضا گیلانی ملکی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم ہیں جن کو سپریم کورٹ نے ان کے عہدے سے نااہل قرار دیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here