کینیڈا: امیگریشن قانون کے خلاف احتجاج

Posted by on Jun 06, 2012 | Comments Off on کینیڈا: امیگریشن قانون کے خلاف احتجاج

کینیڈا کے مغربی صوبے سسکیچوئن کے شہر سسکاٹون میں پاکستانیوں سمیت سینکڑوں جنوبی ایشیائی نژاد شہریوں نے نئے امیگریشن قانون کے خلاف اجتجاجی جلسہ کیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت نئے آنے والوں کے لیے کینیڈا آنے سے قبل نوکری کی پیشکش کے ساتھ ساتھ کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم بھی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس قانون کے تحت حکومت کی طرف سے مقرر کردہ شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد بھی اس صوبے کی سکونت اختیار کر کے کینیڈا کے مستقل رہائشی بن سکتے ہیں۔

اس پرامن اجتجاجی جلسے میں حکومت سے امیگریشن قوانین میں بغیر کسی نوٹس کے کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں پر از سر نو غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 مقامی صحافی محسن عباس کے مطابق اس قانون میں تبدیلی کا اثر صوبے بھر میں مقیم بیس ہزار کے لگ بھگ تارکین وطن خاندانوں پر پڑے گا جن کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت سمیت کئی دوسرے ممالک سے ہے۔

متاثرین سے بات چیت کرتے ہونے انھوں نے کہا کہ ’صوبائی حکومت کی اس پروگرام میں بڑی دلچسپی ہے اور حال ہی میں بننے والے وزیر امیگریشن لوگوں سے ملیں گے اور میں آپ کہ پیغام وزیر امیگریشن تک پہچاؤں گا‘۔

اس موقع پر وینکوور سے آنے والے امیگریشن کے ماہر وقار حسن نے کہا کہ ’چند لوگوں نے اس قانون کا ناجائز فائدہ اٹھایا جس کہ خمیازہ ہزاروں خاندان بھگت رہے ہیں تاہم ابھی بھی بہت سے ایسے قانونی راستے موجود ہیں جس کے تحت لوگ اپنے عزیزں و رشتہ داروں کو بلا سکتے ہیں‘۔

اس موقع پر وینکوور سے آنے والے امیگریشن کے ماہر وقار حسن نے کہا کہ ’چند لوگوں نے اس قانون کا ناجائز فائدہ اٹھایا جس کہ خمیازہ ہزاروں خاندان بھگت رہے ہیں تاہم ابھی بھی بہت سے ایسے قانونی راستے موجود ہیں جس کے تحت لوگ اپنے عزیزں و رشتہ داروں کو بلا سکتے ہیں‘۔

یاد رہے کہ سسکیچوئن صوبے کی آبادی سن دو ہزار چھ سے قبل ایک ملین سے بھی کم تھی جو اس وقت امیگریشن قوانین میں کی جانے والی نرمی کے بعد تیزی سے بڑھی۔

سخت سردی کے موسم میں اس صوبے کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری تک چلا جاتا ہے۔ قریباً چھ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے والے اس صوبے میں کاشتکاری کے ساتھ ساتھ معدنیات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

گندم کی پیداوار کے لیے یہ صوبہ دنیا بھر میں مشہور ہے اور یہاں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے حالیہ سالوں میں کاشتکاری شروع کی ہے

یاد رہے کہ سسکیچوئن صوبے کی آبادی سن دو ہزار چھ سے قبل ایک ملین سے بھی کم تھی جو اس وقت امیگریشن قوانین میں کی جانے والی نرمی کے بعد تیزی سے بڑھی۔

سخت سردی کے موسم میں اس صوبے کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری تک چلا جاتا ہے۔ قریباً چھ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے والے اس صوبے میں کاشتکاری کے ساتھ ساتھ معدنیات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

اس اجتجاجی جلسے میں سسکیچوئن امیگریشن نومینی پروگرام کے ڈائریکٹر کرک ویسٹ گارڈ نے بھی شرکت کی اور لوگوں کے مطالبات قلمبند کیے۔

 

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here