کمر پتلی یا عملی فرائض سے دستبرداری

Posted by on Jun 19, 2012 | Comments Off on کمر پتلی یا عملی فرائض سے دستبرداری

 

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمہ پولیس کے ایک لاکھ 75 ہزار اہلکار ان دنوں اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اپنی کمر اور توند کم کرنے کے لیے روزانہ باقاعدگی سے جسمانی ورزش کرنے اور پارکوں میں دوڑ لگانے جیسی سرگرمیوں میں مصروف دیکھائی دیتے ہیں۔

صوبائی انسپکڑ جنرل آف پولیس حبیب الرحمن کے احکامات کے مطابق محکمے کے تمام اہلکاروں کی جسمانی فٹنس کا جائزہ لینے کے لیے 30 جون کو ان کی کمر کی پیمائش کی جائے گی اور جن افسران کی کمر 38 انچ سے زیادہ ہوئی ان سے عملی فرائض کی ذمہ داریاں واپس لے لی جائیں گی۔

محکمے کی ترجمان نبیلہ غضنفر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ماضی میں بھی پولیس کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے ایسی اصلاحات نافذ کی گئیں تاہم ان کے بقول موجودہ انسپکٹر جنرل اس مقصد کے حصول میں انتہائی زیادہ سنجیدہ ہیں۔

’’جولائی میں ان (اہلکاروں کی کمر) کی پیمائش ہو گی اور مجموعی جائزہ لیا جائے گا جن اہلکاروں نے اپنے آپ کو چاک و چوبند کر لیا وہ عملی فرائض انجام دیتے رہیں گے جب کہ بقیہ کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جائے گا، (ممکن ہے) اُن کو وزن کم کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے پچاس فیصد سے زائد اہلکاروں کا وزن مقررہ حد سے زیادہ ہے جس کے اُن کی عملی فرائض کی انجام دہی پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

’’وزن کی زیادتی اور موٹاپا عملی فرائض کی انجام دہی کے لیے مناسب نہیں، اُنھوں نے ڈاکوؤں کا تعاقب کرنا ہوتا ہے، اور بہت ذمہ داریاں ہوتی ہیں اُس میں یہ (عوامل) رکاوٹ بنتے ہیں … اس ہی طرح ہمارے افسران اور اہلکار جسمانی طور پر جتنے چست ہوں گے اُن کی کارکردگی اُتنی ہی بہتر ہو گی۔‘‘

پولیس کی ترجمان نبیلہ غضنفر نے اعتراف کیا کہ محکمے میں اہلکاروں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے عملی فرائض انجام دینے والے ہر افسر کو کئی کئی افراد کا کام کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے انھیں اپنی جسمانی فٹنس پر توجہ دینے میں مشکلات پیش آتی ہیں مگر انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے پولیس ڈپارٹمنٹ نے ورزش کی سہولتیں بہم فراہم کر رکھی ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق راولپنڈی میں زائد وزنی پولیس اہلکاروں کی شرح 77 فیصد ہے۔ سرکاری احکامات کے مطابق موٹاپے کا شکار پولیس افسران و اہلکاروں کو یکم جولائی کے بعد کسی عملی ڈیوٹی پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان میں گزشتہ دس برس سے اپنی سرزمین پر دہشت گرد عناصر کے خلاف بر سر پیکار ہے اور کئی علاقوں میں فوجی آپریشن بھی جاری ہیں مگر اعلٰی فوجی حکام کا ماننا ہے کہ پولیس کے محکمے کی کارکردگی کو بہتر کرنا ناگزیر ہے کیونکہ کسی بھی علاقے میں انسداد دہشت گردی کے کامیاب آپریشن کے بعد وہاں کا انتظام سول انتظامیہ ہی موثر انداز میں چلا سکتی ہے جس میں پولیس کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here