کلاچی؛ پہلی مرتبہ خود کش حملہ آوروں سے نمٹنے کے لیے بکتر بند گاڑی استعمال کرنے کا تجربہ کامیاب رہا۔

Posted by on Jul 02, 2011 | Comments Off on کلاچی؛ پہلی مرتبہ خود کش حملہ آوروں سے نمٹنے کے لیے بکتر بند گاڑی استعمال کرنے کا تجربہ کامیاب رہا۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک اعلی پولیس اہلکار کے مطابق تحصیل کلاچی کے پولیس تھانے میں خود کش حملہ، مناواں اور جی ایچ کیو کے حملے سے مشابہت رکھتا تھا اور پہلی مرتبہ خود کش حملہ آوروں سے نمٹنے کے لیے بکتر بند گاڑی استعمال کرنے کا تجربہ کامیاب رہا۔
ڈیرہ اسماعیل خان رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس امتیاز شاہ نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ ایک مرد اور ایک لڑکی نے جب تھانے میں حملہ کیا تو انھیں باہر سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے حملہ آوروں کی تعداد چار یا پانچ سے کہیں زیادہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں انھیں چاروں سمت سے سنائی دی جا رہی تھیں اور ایسا ایک پل کے لیے بھی نہیں لگا کہ یہ صرف دو حملہ آوروں کی کارروائی ہے۔
پچیس جون کو سہہ پہر کوئی ساڑھے چار بجے ایک اٹھارہ سے بیس سال عمر کی لڑکی اور پچیس سے ستائیس سال کی عمر کے مرد نے تحصیل کلاچی میں سٹی تھانے پر اس وقت حملہ کر دیا تھا جب تھانے کے اندر ایس ایچ اور اور ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت سولہ پولیس اہلکار موجود تھے۔
کوئی ساڑھے چار پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں سات پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے جبکہ تین اہلکار موقع تلاش کر کے خود ہی باہر نکل آئے تھے۔
ڈی آئی جی کے مطابق حملہ آور خود کش بمبار نہیں بلکہ خود کش مشن پر تھے اور ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا۔ جیسا کہ حملہ آوروں نے لاہور میں مناواں اور راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ خود کش بمبار کسی ایک مقام پر پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیتا ہے جبکہ خود کش مشن میں فائرنگ، دستی بم کے استعمال سے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جاتا ہے اور اس کے بعد اگر جان بچا کے فرار ہو سکے تو ٹھیک وگرنہ آخر میں خود کش دھماکے سے خود کو اڑا دیا جاتا ہے لیکن گرفتاری نہیں دی جاتی۔
امتیاز شاہ کا کہنا تھا کہ خود کش حملہ آوروں سے نمٹنے کے لیے تھانے کے اندر بکتر بند گاڑی داخل کی گئی جس میں ڈی ایس پی صلاح الدین کنڈی سمیت پانچ اہلکار سوار تھے لیکن انھیں پہلی کوشش میں فوری طور پر واپس بلا لیا گیا۔
تیس منٹ کے بعد دوسری کوشش کی گئی جس میں ایک منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے جس سے بکتر بند گاڑی کو آگ لگ گئی لیکن اس میں سوار اہلکار محفوظ رہے۔ اس کوشش میں دونوں خود کش حملہ آوروں کو نشانہ بنایا گیا اور وہ دھماکے سے اڑ گئے۔
تیس منٹ کے بعد دوسری کوشش کی گئی جس میں ایک منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے جس سے بکتر بند گاڑی کو آگ لگ گئی لیکن اس میں سوار اہلکار محفوظ رہے۔ اس کوشش میں دونوں خود کش حملہ آوروں کو نشانہ بنایا گیا اور وہ دھماکے سے اڑ گئےامتیاز شاہڈی آئی جی کے مطابق پہلے لڑکی کو پولیس کی گولی لگی جس سے وہ گر گئی اور پھر دھماکے سے پھٹ گئی یہی وجہ تھی کہ اس مقام پر زمین میں گڑھا پڑ گیا تھا۔ حالانکہ خود کش کے پھٹنے سے زمین میں گڑھا نہیں پڑتا۔ دوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب حملہ آور مرد کو گولی لگی اور وہ دھماکے سے اڑ گیا۔
خود کش حملہ آور لڑکی کے بارے میں امتیاز شاہ نے بتایا کہ اس نے جوڑا باندھا ہوا تھا اور انتہائی تربیت یافتہ تھی، وہ بڑے ماہرانہ انداز میں فائرنگ کر رہی تھی اور دستی بم سے دھماکے کر رہی تھی۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ ان کی حکت عملی کامیاب رہی کیونکہ حملہ آور تھانے میں مکمل نقصان نہیں کر پائے بلکہ آدھا نقصان ہوا۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تھانے پر حملے سے تھوڑی دیر پہلے اس علاقے کی بریگیڈیئر نے اپنے قافلے کے ہمراہ نہ صرف تھانے کا بلکہ علاقے کا دورہ کیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق انھیں یہ خدشہ تھا کہ تھانے کے اندر کارروائی کے دوران ایسا نہ ہو کہ پیچھے سے مزید حملہ آور آ کر انھیں زیادہ نقصان نہ پہنچا دیں کیونکہ یہ علاقہ ایسا ہے کہ یہاں ماضی میں اہم شدت پسند روپوش رہے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here