کشمیر میں نازی طرز کا ظلم:جیٹھ ملانی

Posted by on Jun 06, 2011 | Comments Off on کشمیر میں نازی طرز کا ظلم:جیٹھ ملانی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور معروف قانون دان رام جیٹھ ملانی نے کہا ہے کہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں لوگوں کے ساتھ نازی طرز کا ظلم ہورہا ہے اور ناانصافیوں کا سلسلہ جاری رہا تو لوگ انصاف کے حصول کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

رام جیٹھ ملانی غیر سرکاری کشمیر کمیٹی کے تین رکنی وفد کی سربراہی کر رہے ہیں جس نے پیر کے روز کشمیر کا چار روزہ دوہ مکمل کیا ہے۔

پیر کو واپس دلی روانہ ہونے سے قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران جیٹھ ملانی نے کہا کہ مقامی حکومت لوگوں کے ساتھ ناانصافیاں کر رہی ہے۔

سابق مسلح رہنما عبدالعزیز ڈار عرف جنرل موسی کی مثال دیتے ہوئے رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ مذکورہ شخص کو بنا کسی عدالتی سماعت کے اٹھارہ سال تک جموں و کشمیر کی جیلوں میں قید رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی صورتحال نازی جرمنی میں بھی دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔

انہوں نے وزیراعلی عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیے گئے نوجوانوں کی فائلوں کا ذاتی طور مطالعہ کریں اور لوگوں کو انصاف فراہم کریں۔

جموں کشمیر میں غیر ضروری طور پر احتیاطی گرفتاری کے قوانین نافذ ہیں اور ان قوانین کا ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے۔ ناانصافیوں، ظلم اور انتظامی غفلت کا یہی حال رہا تو حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔

رام جیٹھ ملانی

ملانی نے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں، بلاامتیاز گرفتاریوں ، لاقانونیت اور غیر جوابدہ انتظامیہ کی وجہ سے کشمیر میں ظلم اور دہشت کا ماحول قائم ہوا ہے۔ ان ناانصافیوں کے لیے انہوں نے براہ راست مقامی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ جموں کشمیر میں غیر ضروری طور پر احتیاطی گرفتاری کے قوانین نافذ ہیں اور ان قوانین کا ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے۔

مسٹر ملانی نے مقامی حکومت سے کہا کہ وہ پچھلے چند سال میں سرکاری کارروائیوں کے دوران مارے گئے نوجوانوں کے لواحقین سے معافی مانگیں اور انہیں بھرپور معاوضہ فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناانصافیوں، ظلم اور انتظامی غفلت کا یہی حال رہا تو حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند نے چونکہ عمر عبداللہ سرکار کو قائم کرنے میں مدد کی ہے لہذا وہ اس حکومت کے عوام کش اقدامات پر خاموش ہے اور یہاں کے ارباب اختیار سے کوئی جواب طلبی نہیں ہو رہی ہے۔
رام جیٹھ ملانی نے سابق مسلح رہنما عبدالعزیز ڈار عرف جنرل موسی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شخص کو بنا کسی عدالتی سماعت کے اٹھارہ سال تک جموں و کشمیر کی جیلوں میں قید رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی صورتحال نازی جرمنی میں بھی دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔

رام جیٹھ ملانی کی قیادت والی غیر سرکاری کشمیر کمیٹی دراصل بی جے پی کے دورِ حکومت میں قائم کی گئی تھی اور اس نے یہاں کے علیحدگی پسندوں اور حکومت ہند کے درمیان بات چیت کے لیے ماحول سازگار کرنے کی کوششیں کیں۔

پچھلے سال کی احتجاجی تحریک میں فورسز کاروائی کے دوران سو سے زائد افراد کی موت کے بعد حکومت ہند نے تین مذاکرات کاروں کو کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کے لئے تعینات کیا تھا۔ انہوں نے دس ماہ کے دوران جموں کشمیر کے کئی دورے کیے، تاہم علیحدگی پسندوں نے ان سے ملاقات نہیں کی۔

تاہم اب ملانی نے دورے کے دوران سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق جیسے معروف علیحدگی پسند رہنماں کے ساتھ ملاقاتیں کیں جبکہ لبریشن فرنٹ رہنما محمد یسین ملک نے اس کمیٹی کو تحریک مخالف قرار دے کر ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔

کمیٹی سربراہ نے کہا کہ مسٹر ملک کے انکار کی نظریاتی وجہ ہوسکتی ہے لیکن انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ وزیراعلی عمرعبداللہ نے بھی کمیٹی کو وقت نہیں دیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here