کشمیر میں انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ کل ہوگی

Posted by on Jun 25, 2011 | Comments Off on کشمیر میں انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ کل ہوگی

سیکرٹری الیکشن کمیشن محمد یونس نے کہا ہے کہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد ہر سیاسی جماعت کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ،پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف ،پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف اور وفاقی و صوبائی وزرا چیف الیکشن کمشنر کی خصوصی اجازت کے بعد انتخابی مہم میں حصہ لینے یہاں آئے اور ان کے بقول اس فیصلے کا مقصد انتخابات میں سب کو برابر کے مواقع فراہم کرنا ہے۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 26 جون کو ہونے والے انتخابات سے ایک روز قبل الیکشن کمیشن کی طرف سے قانون ساز اسمبلی کی تین نشستوں پر انتخابات ملتوی کردیے ہیں۔یہ فیصلہ امن وامان کی خراب صورتحال اور بوگس ووٹوں کے اندراج کے باعث جمعہ کو مظفرآباد ہائی کورٹ کی طرف سے دیے گئے حکم کے بعد سامنے آیا۔ ان حلقوں میں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے کراچی کے دو حلقے بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی کرائے بصورت دیگر ایم کیو ایم اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔جن حلقوں میں پولنگ ملتوی کی گئی ہے ان میں کراچی میں ایل اے 30 جموں ون اور ایل اے 36 ویلی ون اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایل کے 41 شامل ہیں۔پاکستا نی کشمیر کے الیکشن کمیشن کی طرف سے کشمیر کے 29انتخابی حلقوں میں650 سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی احساس قرار دیا گیا ہے جن کی نگرانی کے لئے پولیس اور نیم فوجی دستے تعنیات کیے جائیں گے۔اتوار کو ہونے والے انتخابات میں پاکستانی کشمیر کے23 لاکھ 59ہزار566 رجسٹرڈ ووٹرز جب کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نو انتخابی نشستوں کے لئے سات لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔پاکستان میں حزب مخالف مسلم لیگ (ن)کے سربراہ نواز شریف اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے وزیراعظم سید یوسیف رضا گیلانی کی طرف سے اپنی اپنی جماعتوں کے نامزد امیدواروں کی انتخابی مہم میں شرکت کی وجہ سے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں پہلی بار اتنی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔نواز شریف نے اس انتخابی مہم کو پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف زبر دست تنقید کا ذریعہ بنایا اور مسلم لیگی امیدواروں کے حق میں ایک ہفتے تک بھرپور مہم چلائی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی انتخابی مہم کے لیے کئی اضلاع کے دورے کیے اور پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔پاکستانی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 1970 سے اب تک ہونے والے 9 انتخابات میں اتنی زیادہ گہماگہمی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ۔ اس بار اس گہما گہمی کی وجہ پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں  پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم  کی بھرپور شرکت ہے۔ماضی میں پاکستان میں قائم ہو نے والی مسلم لیگ کی حکومتیں پاکستانی کشمیر میں مسلم کانفرنس کی حمایت کرتی رہیں اور کشمیر میں اسے ہی مسلم لیگ قرار دیاجاتارہا۔لیکن پاکستان میں 1999 میں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلم کانفرنس کی طرف سے صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کرنے کی وجہ سے نواز شریف کے مسلم کانفرنس سے اختلافات پیدا ہوئے اور گزشتہ برس حکمران جماعت مسلم کانفرنس سے علیحدہ ہونے والے ارکان اسمبلی کے ذریعے مسلم لیگ(ن) کی شاخ قائم کی۔سیکرٹری الیکشن کمیشن محمد یونس نے کہا ہے کہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد ہر سیاسی جماعت کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ،پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف ،پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف اور وفاقی و صوبائی وزرا چیف الیکشن کمشنر کی خصوصی اجازت کے بعد انتخابی مہم میں حصہ لینے یہاں آئے اور ان کے بقول اس فیصلے کا مقصد انتخابات میں سب کو برابر کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here