کشمیر: آتشزدگی سے تاریخی خانقاہ خاکستر

Posted by on Jun 25, 2012 | Comments Off on کشمیر: آتشزدگی سے تاریخی خانقاہ خاکستر

ھارت کےزیرانتظام کشمیر میں آتشزدگی کے ایک واقعے میں ایران کے صوفی بزرگ سیّد عبدالقادر سے منسوب قدیم خانقاہ خاکستر ہوگئی۔

عینی شاہدین کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے چھ بجے سرینگر کے خانیار علاقہ میں واقع تین منزلہ خانقاہ میں آگ بھڑک اٹھی جو تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔

آگ بجھانے والی درجنوں گاڑیوں نے آگ پر قابو پانا چاہا تاہم تاریخی عمارت کو بچایا نہ جاسکا۔

آگ بجھانے کا عملہ اور مقامی لوگ ابھی بھی امدادی کارروائی میں مصروف ہیں۔

اس واردات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن شہر میں کشیدگی کا ماحول ہے اور پتھراؤ کے چند واقعات بھی ہوئے۔ پولیس کے سربراہ کے راجندر کمار اور دوسرے سرکاری افسروں نے جائے واردات کا دورہ کیا اور شہر میں سیکورٹی انتظامات کو سخت کردیا گیا ہے۔

حکام نے ابتدائی تفتیش کا حوالہ دے کر کہا کہ آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ ہوسکتا ہے تاہم معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

شیخٰ سّید عبدالقادر (1077-1186 ) دراصل شمالی ایران کے جیلان شہر کے رہنے والے تھے۔ وہ قادریہ سلسلے کے بانی ہیں اور عراق کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں انہوں نے اسلامی تبلیغ کی۔

شیخ عبدالقادر کے جانشین خواجہ سخی شاہ پندرہویں صدی میں قادری سلسلہ کی تبلیغ کے حوالے سے کشمیر آئے اور یہاں شیخ صاحب کے پیروکاروں کا ایک بڑا حلقہ پیدا کیا۔ سرینگر کے خانیار اور سرائے بالا کے علاوہ کشمیر کے جن علاقوں میں شیخ عبدالقادر کے جانشینوں نے قیام کیا، وہاں ان کی یاد میں خانقاہیں تعمیر کی گئیں اور ان میں ان کے تبرکات ہیں جن کا دیدار مخصوص عرس کے روز ہوتا ہے۔

اُنیسویں صدی کے آغاز میں سکھ دورِ اقتدار میں مقامی رئیسوں ثناءاللہ شال اور خواجہ محی الدین نے شیخ عبدالقادر کی یاد میں خانیار کی یہ دلکش خانقاہ تعمیر کروائی تھی۔

پیر کے روز آگ کی نذر ہوجانے والی خانقاہ میں ان کے کچھ تبرکات تھے۔ مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ انہیں بحفاظت نکال لیا گیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here