کراچی رینجرز مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں

Posted by on Jun 13, 2011 | Comments Off on کراچی رینجرز مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں

سندھ ہائی کورٹ میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے انتظامی جج مقبول باقر نے نوجوان سرفراز شاہ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار چھ رینجرز اہلکاروں اور ایک سرکاری محافظ کو پندرہ جون تک پولیس ریمانڈ میں دے دیا ہے۔
کراچی میں واقع شہید بینظیر بھٹو پارک میں رینجرز اہلکاروں کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے نوجوان سرفراز شاہ کے مقدمے میں اتوار کو انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کردی گئی تھیں۔
پیر کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے انتظامی جج کے سامنے رینجرز کے چھ اہلکاروں سب انسپکٹر بہادر رحمان، ڈرائیور منٹھار علی، سپاہی لیاقت علی، محمد طارق، شاہد ظفر اور محمد افضل کے علاوہ پارک میں ضلعی حکومت کے تعینات اس سکیورٹی گارڈ کو بھی پیش کیا گیاجس نے نوجوان سرفراز شاہ کو پکڑ کی رینجرز اہلکاروں کے حوالے کیا تھا۔
جی تھری رائفل کے بلاسٹک ٹیسٹ کرائے جائیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس اہلکار کی رائفل سے گولی چلائی گئی تھی
کراچی  عدالت میں سپریم کورٹ کی جانب سے اس کیس میں مقرر کردہ تفتشی افسر سلطان خواجہ پیش ہوئے۔
عدالت نے ملزمان کو پندرہ جون تک پولیس ریمانڈ میں دے دیا ہے۔
عدالت میں پیشی کے لیے رینجرز اہلکاروں کو بکتر بند گاڑی میں جب کہ پارک کے محافظ کو پولیس موبائل میں لایا گیا۔
دریں اثنا پولیس نے مقتول سرفراز شاہ کے خاندان اور شہید بینظیر بھٹو پارک کے ملازمین کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔
اس سے پہلے مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے پولیس نے رینجرز کے دو اہلکاروں شاہد ظفر اور محمد افضل کا ریمانڈ لیا تھا۔
رینجرز حکام نے ملزمان کا سرکاری اسلحہ اور موبائل گاڑی بھی پولیس کے حوالے کر دی ہے۔ اس کے علاوہ تفتیشی پولیس کے مطابق جی تھری رائفل کے بیلسٹک ٹیسٹ کرائے جائیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس اہلکار کی رائفل سے گولی چلائی گئی تھی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here