کان کن تاحال بازیاب نہیں ہوئے

Posted by on Jun 21, 2011 | Comments Off on کان کن تاحال بازیاب نہیں ہوئے

پاکستان کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل سے کوئی دس روز پہلے اغوا ہونے والے اٹھارہ کان کنوں کو اب تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔
پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق مغوی کان کنوں کا تعلق سوات اور دیگر قریبی علاقوں سے ہے۔
حکام کا کہنا ہے کان کنوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور آئندہ چند روز تک تمام کان کن بازیاب ہو جائیں گے۔
درہ آدم خیل کی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ اغوا کاروں سے مذاکرات کے بعد ایک وفد اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو واپس پہنچا ہے اور امید ہے کہ تمام کان کنوں کو جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔
درہ آدم خیل کے علاقے اخوروال میں کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے والے بیس کان کنوں کو مبینہ طور پر شدت پسندوں کے ایک گروپ نے دس جون کو اغوا کر لیا تھا۔
درہ آدم خیل کے علاقے اخوروال میں کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے والے بیس کان کنوں کو مبینہ طور پر شدت پسندوں کے ایک گروپ نے دس جون کو اغوا کر لیا تھا۔مقامی اہلکاروں کے مطابق بڑی تعداد میں شدت پسندوں نے کوئلے کی کانوں کے قریب مزدوروں کے کیمپ پر دھاوا بول دیا تھا اور اسلحہ کی نوک پر تمام کان کنوں کو اغوا کر لیا۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ دو کان کن شدت پسندوں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ کوئلے کی ان کانوں پر کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں اور مقامی طور پر قائم قومی لشکر کے عہدیدار ان کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حمایت کر رہے تھے۔
ان کوئلے کی کانوں کے قریب عارضی کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں دیگر عملے کے علاوہ کان کن رہائش پذیر ہیں۔
درہ آدم خیل میں مشتبہ طالبان کے دو بڑے گروپس ہیں جبکہ ان کے ذیلی شاخیں بھی ہیں اور دونوں گروپس اپنے اپنے علاقوں میں متحرک ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقے خاص طور پشاور اور کوہاٹ میں اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پشاور سے اغوا ہونے والے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خانتاحال بازیاب نہیں کرائے جا سکے۔ کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بھی درہ آدم خیل سے ہی اغوا کیا گیا تھا جنہیں پھر سات ماہ بعد بازیاب کرا لیا گیا تھا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here