کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان میں اندرونی اختلافات طالبان کمانڈر منحرف

Posted by on Jun 29, 2011 | Comments Off on کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان میں اندرونی اختلافات طالبان کمانڈر منحرف

پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے خلاف سرگرم کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان میں اندرونی اختلافات کی خبریں تو بہت پہلے سے آرہی ہیں لیکن کرم ایجنسی میں علاقے کے ایک اہم کمانڈر نے تحریک سے علیحدگی اختیار کرکے نہ صرف ان اختلافات کی تصدیق کردی ہے بلکہ عسکریت پسندوں کے ایک نئے گروپ کے قیام کا اعلان بھی کردیا ہے۔
کرم ایجنسی میں بیت اللہ گروپ کے تحریک طالبان کے سربراہ فضل سعید حقانی نے قیادت سے اختلافات کے باعث تحریک سے علیحدہ ہوگئے ہیں اور تحریک طالبان اسلامی پاکستان کے نام سے ایک نئی تنظیم بنانے کا اعلان کردیا ہے۔
فضل سعید حقانی نے پیر کو کرم ایجنسی میں کسی نامعلوم مقام پر صحافیوں سے ملاقات میں خودکش حملوں، بازاروں اور مساجد پر ہونے والے حملوں کو حرام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حملوں کی اسلام قطعی طورپر اجازت نہیں دیتا بلکہ ان کے مطابق یہ کھلی دہشت گردی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان میں اندرونی اختلافات کی خبریں تو بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے ساتھ ہی سامنے آنے شروع ہوگئی تھی لیکن اس کی باضابط طورپر کوئی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی علاقے کے ایک امیر نہ صرف تحریک سے منحرف ہوگئے ہیں بلکہ اس کے مقابلیمیں ایک نئی تنظیم بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس سے پہلے اورکزئی ، مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں بھی طالبان کمانڈروں کے مابین اختلافات اور لڑائی کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔
فضل سعید حقانی لوئر کرم ایجنسی میں شدت پسندوں کے ایک اہم کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تحریک طالبان پاکستان کرم ایجنسی کے امیر تھے۔ ان کا تعلق بنیادی طورپر اورکزئی کے زمشت قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے اکوڑہ خٹک کے مشہور اسلامی مدرسہ دارالعلوم حقانیہ سے دینی تعلیم حاصل کی ہے ۔ وہ عالم دین اور مفتی بھی بتائے جاتے ہیں۔
فضل سعید حقانی کو اس علاقے میں اس لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کے امریکہ کو انتہائی مطلوب حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈر سراج الدین سے قریبی روابط بتائے جاتے ہیں۔ وہ افغانستان میں روس اور امریکہ کے خلاف جنگ کے دوران افغان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گروپ کی طرف سے لڑتے رہے ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طالبان سربراہ حکیم اللہ محسود اور فضل سعید حقانی کے مابین کچھ عرصہ سے اختلافات چلے آرہے تھے۔ اس دوران کرم ایجنسی میں چند ایک اہم کمانڈر بھی مارے گئے جو مقامی لوگوں کے مطابق دونوں کے مابین اختلافات بڑھانے کا سبب بنے۔
تاہم ان اختلافات میں اس وقت شدت دیکھنے میں آئی جب اس سال مارچ کے مہینے میں کرم ایجنسی کے علاقے بگن میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے حملہ کیا گیا جس میں دو افراد ہلاک جبکہ پینتیس کے قریب اغوا کر لئے گئے۔ ان افراد کا تعلق اہل تشیعہ قبیلے سے تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت ہوا تھا جب اس سے چند دن قبل ہی کرم ایجنسی کی تمام سڑکیں تین سال کے بعد ایک معاہدے کے نتیجے میں عام ٹریفک کیلیے کھول دی گئی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کو فضل سعید حقانی کی مکمل حمایت و تائید حاصل تھی بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ سڑکیں بھی ان کی رضامندی کی وجہ سے کھولی گئی تھیں۔
اگرچہ گاڑیوں پر حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن فضل سعید کی طرف سے اس واقعہ کا ذمہ دار بیت اللہ گروپ کے چند کمانڈروں کو ٹھہرایا جارہا ہے۔
طالبان کا یہ نیا گروپ کتنا موثر اور فعال ہوگا یا اس سے تحریک طالبان پر کتنا اثر پڑسکتا ہے ، اس کے بارے میں اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
پاکستان کے کچھ قبائلی علاقوں اور سوات میں قدرے کامیاب فوجی کاروائیوں کے باعث

طالبان تنظمیں پہلے ہی سے دبا کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کاروائیوں کی وجہ سے ان کا کمانڈ اور کنٹرول نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ایسے میں اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تحریک طالبان اسلامی پاکستان کے قیام سے تحریک طالبان مزید دبا کا شکار ہوگی۔ ان کے مطابق اس سے ان جنگجوں کے ہاتھ بھی ایک موقع آگیا ہے جو تحریک کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں یا یہ تنظیم چھوڑنا چاہتے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here