بیٹے کے خلاف الزامات کی سماعت سے علیحدگی کا اعلان

Posted by on Jun 07, 2012 | Comments Off on بیٹے کے خلاف الزامات کی سماعت سے علیحدگی کا اعلان

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے منگل کو رات گئے پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ان خبروں کا از خود نوٹس لیا تھا جن میں ان کے بیٹے ارسلان افتخار پر کاروباری شخصیت ملک ریاض سے کروڑوں روپے کا فائدہ حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے پر بدعنوانی کے الزامات کے معاملے کی سماعت سے علیحدہ ہونے اور ایک خصوصی بینچ تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے ایک مرتبہ پھر چیف جسٹس کی معاملہ سننے والے بینچ میں شمولیت پر اعتراض کیا جس کے بعد چیف جسٹس نے مختصر فیصلے میں کہا کہ یہ اعتراض بجا ہے اور وہ اس کیس کی سماعت سے الگ ہو رہے ہیں۔

اس ازخود نوٹس کے بارے میں منگل کو رات گئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار فقیر حسین کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ کئی ٹی وی ٹاک شوز میں عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے کاروباری شخصیت ملک ریاض اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان کسی ’بزنس ڈیل‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ٹاک شوز میں کہا گیا کہ ’ملک ریاض نے ڈاکٹر ارسلان کو تیس سے چالیس کروڑ روپے دیے اور ان کے غیر ملکی دوروں کو بھی سپانسر کیا‘۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے خبروں کے مطابق ’یہ عنایات ڈاکٹر ارسلان پر اس لیے کی گئیں تاکہ ان کے والد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار چوہدری پر اثرانداز ہوکر ان کے دل میں ملک ریاض کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا جا سکے۔ ایسا کرنے کا مقصد ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات میں حمایت حاصل کرنا تھا‘۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے خود اس معاملے کی سماعت کرنے پر اعتراضات کیے جا رہے تھے اور گزشتہ روز اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ججوں کے ضابطۂ اخلاق کے آرٹیکل چار کے تحت انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب اس معاملے کی سماعت ایک خصوصی بینچ کرے گا جو جمعرات کو ہی دوپہر دو بجے سے اس کی سماعت شروع کرے گا۔

اس معاملے کے اہم کردار ملک ریاض دوسرے دن بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکیل زاہد بخاری نے عدالت کو بتایا کہ وہ علیل ہیں اور ایک ہفتے کے بعد ہی پیش ہو سکتے ہیں۔

اس پر عدالت نے زاہد بخاری سے کہا کہ چونکہ اب یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے اپنے موکل کو مطلع کر دیں کہ وہ اس دوران کسی بھی قسم کا انٹرویو دینے یا معاملے پر رائے زنی سے گریز کریں۔

سماعت کے دوران نجی ٹی وی کے صحافی اور ٹی وی میزبان کامران خان نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروایا جس میں انہوں نے انہیں دکھائی گئی دستاویزات کی تفصیل بیان کی۔

ڈاکٹر ارسلان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور سرکاری ملازم تھے لیکن سنہ 2009 میں اپنے والد کی چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی کے بعد اطلاعات کے مطابق انہوں نے نوکری سے استعفٰی دیدیا تھا۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے خبروں کے مطابق ’یہ عنایات ڈاکٹر ارسلان پر اس لیے کی گئیں تاکہ ان کے والد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار چوہدری پر اثرانداز ہوکر ان کے دل میں ملک ریاض کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا جا سکے۔ ایسا کرنے کا مقصد ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات میں حمایت حاصل کرنا تھا‘۔

 

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here