چیف جسٹس نے فل کورٹ اجلاس طلب کر لیا

Posted by on Jun 13, 2012 | Comments Off on چیف جسٹس نے فل کورٹ اجلاس طلب کر لیا

سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق جج صاحبان نے اس پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی ہے اور فل کورٹ اجلاس میں اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل جب حکومت اور سپریم کورٹ کے درمیان تناؤ پیدا ہوگیا تھا تو اُس وقت میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں تھیں کہ وفاقی حکومت ججز کی بحالی کا نوٹیفکیشن واپس لے رہی ہے تو اُس وقت بھی فُل کورٹ اجلاس طلب کر کے حکومت سے اس معاملے میں وضاحت طلب کی گئی تھی تاہم حکومت نے ایسا کوئی بھی اقدام کرنے کی تردید کی تھی۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ اس اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو فوری نمٹانے کے علاوہ انتظامی امور بھی زیر غور آئیں گے۔

پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جمعہ کو سپریم کورٹ کا فُل کورٹ اجلاس طلب کر لیا ہے۔

:ملک ریاض کے الزامات، رجسٹرار سپریم کورٹ کی تردید

سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے منگل کو چیف جسٹس کی ذات پر ملک ریاض کے عدالت میں بیان اور اس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کا جواب دیا۔

ڈاکٹر فقیر نے ملک ریاض کے اس الزام پر کہ وہ رات کے اندھیرے میں چیف جسٹس سے ملاقات کرتے رہے ہیں، کہا کہ چیف جسٹس اپنی معزولی کے دور میں دو یا تین مرتبہ ملک ریاض سے ملے ہیں۔ ملک ریاض نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف جسٹس ان سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں قوم کو آگاہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹسں ملک ریاض کی طرف سے ارسلان چوہدری کو پہنچائے گئے مبینہ مالی فوائد کے بارے میں قطعی طور پر لا علم تھے

قبل ازیں سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران جمع کروائے گئے بیان میں ملک ریاض نے الزام لگایا کہ ارسلان افتخار نے سنہ دو ہزار دس اور گیارہ کے دوران مبینہ طور پر ان سے چونتیس کروڑ پچیس لاکھ روپے کی رقم زبردستی ہتھیا لی۔

ملک ریاض کی جانب سے جو بیان جمع کروایا گیا ہے اُس میں ڈاکٹر ارسلان کے سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں برطانیہ اور مونٹی کارلو کے دورے پر اُٹھنے والے اخراجات کی ادائیگی سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔

ملک ریاض کے بقول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے کو مختلف اوقات میں تیس کروڑ روپے سے زائد کی رقم ادا کی گئی لیکن یہ رقم اُنہوں نے نہیں بلکہ اُن کے داماد نے دی۔

عدالت نے اُن کے وکیل سے یہ پوچھا کہ جب رقم سلمان نے ادا کی ہے تو ڈاکٹر ارسلان اُنہیں کیسے بلیک میل کر رہے ہیں جس کا وہ جواب نہ دے سکے۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے ملک ریاض کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ انصاف مانگنے نہیں بلکہ خریدنے آئے ہیں۔

گزشتہ روز منگل کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار نے ملک ریاض کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے رات کے اندھیروں میں ملاقاتوں سمیت دیگر الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ارسلان افتخار کو مبینہ طور پر پہنچائے گئے مالی فوائد سے ان کے والد، افتخار محمد چوہدری لا علم تھے۔

ڈاکٹر فقیر نے ملک ریاض کے اس الزام پر کہ وہ رات کے اندھیرے میں چیف جسٹس سے ملاقات کرتے رہے ہیں، کہا کہ چیف جسٹس اپنی معزولی کے دور میں دو یا تین مرتبہ ملک ریاض سے ملے ہیں۔ ملک ریاض نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف جسٹس ان سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں قوم کو آگاہ کریں۔

ڈاکٹر فقیر حسین نے اس ضمن میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقاتیں ججوں کی بحالی کے معاملے میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تناظر میں ہوئی تھیں۔

رجسٹرار کا کہنا ہے کہ ملک ریاض ان ملاقاتوں کے لیے چیف جسٹس کے گھر آئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ چیف جسٹس آصف علی زرداری سے ملاقات کریں تاہم انہوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here