’چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر مثبت جواب ملے گا‘

Posted by on Jul 01, 2012 | Comments Off on ’چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر مثبت جواب ملے گا‘

پاکستان کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں نئے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کو لکھے جانے والے خط کا انہیں مثبت جواب ملے گا۔

گورنر ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر ایسا شخص ہونا چاہئے جن کا نہ ایک طرف جھکاؤ ہو اور نہ ہی دوسری طرف ہو۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ان کی شدید خواہش ہے کہ اپوزیشن سے بات ہو اور نہ ہی اپوزیشن کے ذہن میں یہ بات ہو کہ کون ان کا آدمی ہے اور ان کی مدد کرسکتا اور نہ ہمارے ذہین میں یہ بات ہو کہ کون ہمارا آدمی ہو اور ہماری مدد کرے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جس شخصیت پر زیادہ اتفاق رائے ہو گا وہی چیف الیکشن کمشنر ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب انتخابات میں زیادہ وقت نہیں ہے اور الیکشن کمشنر

صدارتی اشتثنیٰ کے بارے میں سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ صرف پاکستانی صدر کو ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں صدر مملکت کو استثنیْ حاصل ہے اور اس کی ایک مثال فرانس کےسابق صدر نکولس سرکوزی ہے جب تک وہ فرانس کے صدر رہے ان کو اس دن تک استثنیْ حاصل رہا اور اب جب وہ صدر نہیں رہے تو ان کے خلاف کیس چلے گا۔ایسا شخص ہو جن پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے اور بقول ان کے یہی شفاف انتخابات کی طرف پہلا قدم ہوگا۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آج کے دور میں جب اتنے زیادہ ٹی وی چینلز کام کررہے ہیں ان کی موجودگی میں دھاندلی ممکن نہیں ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بارہ جولائی کو سپریم کورٹ سوئس عدالت کو خط لکھنے کے بارے میں ان کی رائے پوچھی ہے تو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بارہ تاریخ کی بات بارہ تاریخ یا پھر تیرہ تاریخ کو کی جائے۔

ایک سوال پر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ تمام اداروں کو اس بات پر دھیان دینا چاہئے کہ کیا ایک چیز اتنی اہم کردیں کہ اور اس چیز پر ہر شے کو داؤ پر لگادیں اور کہیں

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے سنیچر کی رات کو سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ان کے گھر پر ملاقات کی اور اس موقع پر سوئس عدالت کو خط لکھنے کے سوال پر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس معاملے پر قانونی ٹیم سے مشورے ہورہے ہیں۔ پارٹی اور اتحادیوں سے مشاورت کی جارہی ہے اس لیے اس کا فوری جواب نہیں دیا جاسکتا۔جمہوریت اور اداروں کا نقصان نہ کربیٹھیں۔

وزیر اعظم نے اس تاثر کی نفی کی کہ کرائے کے بجلی گھروں کا منصوبہ اس وقت شروع ہوا جب وہ پانی اور بجلی کے وزیر تھے۔ ان کے بقول یہ منصوبہ سنہ دو ہزار چھ میں شروع ہوا جب وہ حکومت میں نہیں تھے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here