پی پی اور ایم کیو ایم میں اختلافات برقرار

Posted by on Jul 04, 2012 | Comments Off on پی پی اور ایم کیو ایم میں اختلافات برقرار

صوبۂ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا معاملہ متنازع ہوگیا ہے۔ صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کا کہنا ہے کہ نئی مردم شماری، حد بندی اور حلقہ بندی نہ ہو پانے کی وجہ سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات اس لیے نہیں کروائے جاسکتے کہ ان کی وجہ سے آئندہ برس مجوزہ عام انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے ۔

تاہم سندھ کی مخلوط حکومت میں شریک جماعت متحدہ قومی موومنٹ کہتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے فرار دراصل جمہوریت سے انکار ہوگا۔

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار نہیں کررہی مگر انیس سو اناسی کے تحت بلدیاتی انتخابات کروانا ہوں گے اور اب وقت کی بہت کمی ہے۔

پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے درمیان بلدیاتی نظام سے متعلق انیس سو اناسی اور دو ہزار ایک میں متعارف کروائے جانے والے قانون پر اختلافات رہے ہیں۔

ایم کیو ایم دو ہزار ایک میں جنرل مشرف دور کے ناظم پر مشتمل بلدیاتی نظام کی حامی رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی جنرل ضیاء دور کے قانون مجریہ انیس سو اناسی کے تحت بلدیاتی نظام نافذ کروانا چاہتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے صوبائی وزیر بلدیات آغا سراج درانی الزام لگاتے رہے ہیں کہ ناظمین نے اپنے دور میں بدعنوانی اور لوٹ مار کی۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنما رضا ہارون کہتے ہیں کہ یہ اعتراض درست اس لیے نہیں کہ بدعنوانی کے الزامات تو صوبائی حکومتوں پر بھی لگتے ہیں وفاقی حکومت پر بھی لگتے ہیں تو کیا صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے انتخابات بھی کروانے بند کردیے جائیں۔

دونوں جماعتوں نےایک کور کمیٹی بنائی تاکہ کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جاسکے۔ دونوں جماعتوں کی اس کور کمیٹی کے کئی اجلاس بھی ہوچکے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے رکن اور سندھ کے صوبائی وزیر رضا ہارون پیپلز پارٹی کے ساتھ بلدیاتی نظام پر ان مذاکرات کی کور کمیٹی میں بھی شامل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام عام آدمی کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔ ’کونسلر، یو سی، تعلقہ، ضلع اور دیگر سطحوں پر منتخب نمائندے عام آدمی کی دسترس میں ہوتے ہیں جو اس کے مسائل فوراً جان سکتے ہیں اور ان کا فوری حل نکالا جاسکتا ہے۔ اگر آپ عام آدمی سے اس کے یہ نمائندگی چھین لیں تو وہ کہاں جائے گا۔ سرکاری افسران اس کو وہ عزت و احترام نہیں دیتے جو منتخب نمائندے دیتے ہیں۔ بلدیاتی نظام سے انکار تو دراصل جمہوریت سے انکار ہے۔‘

رضا ہارون نے کو بتایا کہ ایم کیو ایم بلدیاتی نظام میں تاخیر کے قطعاً حق میں نہیں۔ ’ہم تو جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کروانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی سے بات چیت جاری ہے اور کسی رضامندی کا امکان بھی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام آئین کے آرٹیکل ایک سو چالیس اے کے تحت صوبائی حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ انتخابات کروا کر انتظامی، سیاسی و مالی خودمختاری کے ساتھ اقتدار منتقل کرے گی۔

سندھ کے وزیر قانون ایاز سومرو بھی کہتے ہیں کہ اتحادیوں کو ساتھ لے کر ہی چلیں گے اور اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے جس کے ذریعے بلدیاتی ایکٹ دو ہزار بارہ بنالیں گے اور تقریباً پینسٹھ فیصد کام ہو بھی چکا ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here