پیپلز پارٹی کو ایک اور جیالے کی تلاش

Posted by on Jun 20, 2012 | Comments Off on پیپلز پارٹی کو ایک اور جیالے کی تلاش

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی جانب سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینے کے حکم کے بعد ملک میں جہاں کچھ بحرانی کیفیت نظر آتی ہے وہیں کئی اہم سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو نااہل اس لیے قرار دیا گیا کہ انہوں نے عدالتی حکم کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ سمیت بیرون ممالک مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط نہیں لکھا۔ خط نہ لکھنے کی وجہ وہ یہ بتاتے رہے کہ صدر کو آئین کی شق دو سو اڑتالیس کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔

اس مبہم فیصلے پر فخرالدین جی ابراہیم جیسے لوگ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ چھبیس اپریل کے فیصلے کے مطابق یوسف رضا گیلانی نااہل نہیں ہوتے لیکن مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے اس کی ’تشریح‘ کرتے ہوئے گیلانی کے نااہل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر جو اب فیصلہ دیا ہے کیا اس سے سیاسی پہلو نہیں نکلتا؟

ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نیا آنے والا وزیراعظم عدالتی حکم کی تعمیل کرے گا؟

اس کا جواب نااہل ہونے والے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی خود ہی کافی عرصہ پہلے دے چکے ہیں کہ نیا وزیراعظم بھی کبھی خط نہیں لکھے گا۔ کیا عدالت عظمیٰ آئین کی شق دو سو اڑتالیس کی تشریح کیے بنا نئے وزیراعظم کو بھی نا اہل کردے گی؟

پاکستان میں جہاں معمولی سی نوکری بھی چھوڑنا آسان نہیں وہاں یوسف رضا گیلانی نے اپنی وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی رکنیت اپنی پارٹی اور صدر آصف علی زرداری کے لیے قربان کردی ہے۔ یوسف رضا گیلانی کو دنیا کچھ بھی کہے لیکن پیپلز پارٹی کے حلقوں کے اندر ان کی عزت و احترام کا درجہ آسمان کو چُھو رہا ہے۔ گیلانی نے اپنے بچوں کا سیاسی کیریئر محفوظ کردیا ہے۔

عدالتی حکم کے بارے میں جو دیگر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان میں یہ بھی ہے چھبیس اپریل کو سات ججوں نے وزیراعظم کو توہین عدالت کے الزام کے تحت تیس سیکنڈ کی جو سزا سنائی اس تفصیلی حکم میں نااہلی کے نکتے کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی اور عدالت نے اُسے مبہم کیوں رکھا؟

“عدالتی حکم کے بارے میں جو دیگر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان میں یہ بھی ہے چھبیس اپریل کو سات ججوں نے وزیراعظم کو توہین عدالت کے الزام کے تحت تیس سیکنڈ کی جو سزا سنائی اس تفصیلی حکم میں نا اہلی کے نکتے کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی اور عدالت نے اُسے مبہم کیوں رکھا؟”

وزیراعظم کی نااہلی کے ساتھ کابینہ بھی ختم ہوگئی اور ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے۔ جب تک نیا وزیرعظم آئے اس وقت تک ہونے والے فیصلوں کی کیا حیثیت ہوگی؟ ہوسکتا ہے کہ عدالت اپنے تفصیلی فیصلے میں ان سوالات کا جواب دے دے لیکن فی الوقت یہ سوالات زیر بحث ہیں۔

عدالتی حکم کے بعد پیپلز پارٹی والے کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ عجلت میں سنایا گیا اور سپریم کورٹ نے ’سمری ٹرائل‘ کا انداز اپنایا۔ جب سات ججوں کے فیصلے کی تشریح کی جا رہی تھی اور ملکی تاریخ کا اہم ترین کیس سنا جا رہا تھا تو بڑا بینچ تشکیل کیوں نہیں دیا گیا؟ عدالتی حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے دفتری اوقات ختم ہونے کے بعد گیلانی کی نااہلی کا عجلت میں جو نوٹیفیکیشن جاری کیا اس میں تاریخ انیس جون کے بجائے جولائی لکھ ڈالی۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ چھبیس اپریل سے گیلانی نااہل تصور ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ چھبیس نومبر سے انیس جون تک جو انہوں نے فیصلے کیے ہیں ان کا کیا بنے گا؟ ان فیصلوں میں برطانیہ کا دورہ، کابینہ اور فوجی قیادت کے اجلاسوں کی سربراہی اور خود سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج بھرتی کرنے کے احکامات بھی شامل ہیں۔ کیا یہ سب کچھ ٹھیک کرنے کے لیے ایک بار پھر نظریہ ضرورت کا سہارا لینا پڑے گا؟

یوسف رضا گیلانی اپنی نا اہلی سے قبل ایک جلسے میں تقریر کے دوران خود بتا چکے ہیں کہ نااہلی ان کے لیے نئی بات نہیں کیونکہ ان کے والد کو بھی وقت کے آمروں نے ملتان شہر کو واٹر سپلائی دینے کے الزام میں نااہل قرار دیا تھا۔ ان کے بقول الزام یہ لگایا گیا کہ ملتان میں کیونکہ ان کی درگاہ ہے اور اس کی خاطر پانی کی فراہمی کی سکیم دینا کرپشن کے زمرے میں آتی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں پیپلز پارٹی کے تحفظات، خدشات اور سوالات اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ عدلیہ نے اپنے حکم میں جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کی واضح ہدایات دی ہیں۔

عدالتی حکم کے بعد نئے وزیراعظم کو منتخب کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے اور ہوسکتا ہے کہ رواں ہفتے کے آخر تک نیا وزیراعظم آجائے۔ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ نیا وزیراعظم سرائیکی خطے سے ہوگا اور زیادہ امکانات مخدوم شہاب الدین کے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کو اب بھی ایسا ہی جیالا چاہیے جو گیلانی کی طرح پارٹی کی خاطر کنویں میں چھلانگ لگانے کو تیار ہو۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here