پولیو مہم، اقوام متحدہ کی گاڑی پر حملہ

Posted by on Jul 17, 2012 | Comments Off on پولیو مہم، اقوام متحدہ کی گاڑی پر حملہ

اکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کے قریب پولیو کے قطرے پلانے کی مہم میں شامل اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک غیر ملکی ڈاکٹر زخمی ہو گئے ہیں۔

زخمی ہونے والے ڈاکٹر کا تعلق صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلو ایچ او) سے بتایا جا رہا ہے۔

کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ویسٹ نعیم اکرم بروکا نے رابطہ کرنے پر واقعے کی تو تصدیق کی مگر کہا کہ انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ سے ڈاکٹر کے زخمی ہونے کا یہ واقعہ جہاں پیش آیا ہے وہ پولیس تھانے کی حدود کے مطابق شرقی علاقہ ہے۔

 ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر فاسٹن ڈیوڈ (جن کی شہریت تاحال معلوم نہیں ہوسکی) اپنے عملے کے ہمراہ سہراب گوٹھ کے قریب واقع کچی آبادی مچھر کالونی میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے کی مہم کے لیے کام کر رہے تھے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق انہیں دو گولیاں لگیں، اور پہلے قریب واقع (نجی) پٹیل ہسپتال لے جایا گیا، جہاں سے انہیں آغا خان ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی ایسٹ شاہد حیات نے بھی رابطہ ہونے پر تصدیق کی کہ اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ سے ڈاکٹر زخمی ہوئے ہیں۔

اس علاقے میں امن و امان کی صورتحال کئی دہائیوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشکل سوال رہا ہے۔ یہ علاقہ شہر میں ناجائز اسلحے اور منشیات کے کاروبار کے لیے بھی بدنام رہا ہے۔

اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے عملے نے بھی گاڑی پر فائرنگ اور ڈاکٹر کے زخمی ہونے کی تصدیق کی، مگر مزید تفصیل دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ فی الحال مزید

معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

سہراب گوٹھ شہر کو پورے ملک سے ملانے والی انڈس ہائی وے کا بالکل ابتدائی علاقہ ہے۔

یہ علاقہ اور اس کے آس پاس تقریباً تمام ہی مضافاتی کچی بستیاں کراچی کی پشتون اکثریتی آبادی تصور کی جاتی ہیں۔

ویل عرصے سے شدت پسندوں کی نگرانی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس علاقے کو خاص توجہ بھی حاصل رہی ہے اور سیاسی حلقے نجی طور پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ اس علاقے اور مضافاتی کچی بستیوں میں جرائم کے لیے موجود ماحول شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے۔

اس سے پہلے پیر کو پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی سرکاری مہم کے نگراں ادارے کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بعض شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باڑہ میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم ملتوی کردی گئی ہے اور اس کے نتیجے میں دو لاکھ سے زیادہ بچے پولیو کے خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here