پولیس کو فائرنگ کی اجازت نہیں دی

Posted by on Jun 07, 2011 | Comments Off on پولیس کو فائرنگ کی اجازت نہیں دی

بلوچستان میں خروٹ آباد واقعے کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل کے سامنے پیر کو کوئٹہ پولیس کے سابق سربراہ نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے فائرنگ نہیں کی تھی جبکہ فرنٹئیر کور نے ان سے فائرنگ کی اجازت طلب نہیں کی تھی۔

خروٹ آباد کا واقعہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے مضافات میں سترہ مئی کو پیش آیا تھا جس میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں تین خواتین سمیت پانچ چیچن باشندے ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعہ کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل عدالتی ٹریبونل میں جاری ہیں، جس نے پیر کو بھی پانچ گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ اس موقع پر روسی سفارتخانے کے دو نمائندوں نے بھی پانچ منٹ تک ٹریبونل کی کارروائی دیکھی۔

خروٹ آباد واقعہ کے وقت داد جونیجو کوئٹہ پولیس کے سی سی پی او تھے جنہوں نے سترہ صفحات پر مشتمل اپنا بیان بلوچستان ہائی کورٹ کے جج محمد ہاشم خان کاکڑ کے سامنے پیش کیا۔

بیان میں اپنا مقف پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے کسی پولیس اہلکار کو فائرنگ کی اجازت نہیں دی بلکہ ایک پولیس اہلکار فائرنگ کر رہا تھا، جس کو میں نے فائرنگ سے روکا۔

داد جونیجو کے مطابق فرنٹیئرکور نے مجھ سے فائرنگ کی اجازت طلب نہیں کی تھی جبکہ ایف سی کے کرنل فیصل مجھ سے پہلے ہی موقع پر پہنچ چکے تھے۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے مجھ سے کہا کہ آپ زیادہ قریب نہ جائیں کیونکہ کوئٹہ میں اکثر ایک واقعہ کے بعد دوسرا دھماکہ ہوجاتا ہے۔

میں نے کسی پولیس اہلکار کو فائرنگ کی اجازت نہیں دی بلکہ ایک پولیس اہلکارفائرنگ کررہاتھا، جس کو میں نے فائرنگ سے روکا۔فرنٹیئرکور نے مجھ سے فائرنگ کی اجازت طلب نہیں کی تھی جبکہ ایف سی کے کرنل فیصل مجھ سے پہلیہی موقع پر پہنچ چکے تھے۔

داد جونیجو

سابق سی سی پی او نے ایک ویڈیو فوٹیج بھی عدالت میں پیش کی اور کہا ایک نجی ٹی وی چینل نے تصاویر میری دکھا کر بات کسی اور سے کی ہے۔ جس کے باعث واقعہ سے متعلق متضاد بیانات سامنے آئے۔

اس موقع پر بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار گل محمد نے ٹریبونل کے سامنے بیان دیا مجھے جائے وقوعہ سے چھیالیس بڑے اور سات چھوٹے ڈیٹونیٹرز ملے۔

اس سے قبل سنیچر کو ٹریبول کے سامنے سات گواہ پیش ہوئے تھے۔ ان گواہوں میں عطا محمد بھی شامل تھے جو اس گاڑی کے ڈرائیور تھے جو چیچن باشندوں نے کرائے پر حاصل کی تھی۔

اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عطا محمد نے کہا  کچلاک میں ایک شخص میرے پاس آیا اور پشتومیں کہا کہ میرے پاس مہمان ہیں جنہیں آپ نے کوئٹہ کی بھوسہ منڈی پہچانا ہے۔ جب ہم نوحصار پہنچے تو وہاں پولیس آفیسر رضا خان نے گاڑی روک کر ان افراد کی تلاشی لی۔ جن سے دو شیمپو کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔ جس پر بتایاگیا کہ اس میں کچھ مشتبہ اشیا موجود ہیں جو پلاسٹک میں لپٹی ہوئی ہیں۔

عطا محمد نے بتایا کہ اس دوران رضا خان اور ان افراد کے درمیاں تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا اور رضاخان نے انہیں تھانے لے جانے کی کوشش کی۔ جس پر ان افراد نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر رضاخان نے ہوائی فائرنگ کی۔

کالم نگار امان اللہ شادیزئی نے ٹریبونل کوبتایا مجھے مختلف ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چیچن باشندوں کے پاس اسلحہ موجود نہیں تھا۔ میری معلومات کے مطابق واقعہ کا ذمہ دارپولیس آفیسر رضا خان ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here