پولیس اہلکاروں کی توند عذاب جان

Posted by on Jul 05, 2012 | Comments Off on پولیس اہلکاروں کی توند عذاب جان

 

پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل کی طرف سے کمر اور توند کم کرنے کے لیے دی جانے والی ابتدائی مہلت کے خاتمے پر ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف منگل سے تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جو واضح احکامات کے باوجود اپنا وزن کم کرنے میں ناکام رہے۔

آئی جی پنجاب حبیب الرحمٰن نے اپنے محکمے کے ایک لاکھ 75 ہزار اہلکاروں کو 30 جون تک اپنی کمر کا سائز 38  انچ تک کرنے ڈیڈ لائن دے رکھی تھی اور اس معیار پر پورا نا اترنے کی پاداش میں عہدیداروں کو عملی فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے احکامات بھی دے رکھے تھے۔

صوبائی پولیس کی ترجمان نبیلہ غضنفر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ پنجاب پولیس کی انتہائی تربیت یافتہ ایلیٹ فورس میں شامل زائد الوزن ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے جو اہم سرکاری شخصیات کی حفاظت پر معمور تھے۔

’’ایلیٹ فورس کے 60 جوانوں کو مس فٹ ہونے کی وجہ سے ان کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے‘‘۔

محتاط اندازے کے مطابق پنجاب پولیس کے پچاس فیصد سے زائد اہلکاروں کا وزن مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے اور انسپکٹر جنرل کے احکامات کے مطابق محکمے کے تمام افسران و اہلکار اگر خود کو جسمانی طور پر فٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس سے یقیناً ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

نبیلہ غضنفر کا کہنا ہے کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کی کمر کی پیمائش سات جولائی کو ہو گی۔

حالیہ ہفتوں میں پولیس افسران اور اہلکار معمول کے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اپنی کمر اور توند کم کرنے کے لیے باقاعدگی سے ورزش کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔

’’جب رپورٹ آجائے گی کہ تو ایسے اہلکار جن کے وزن میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے ان کو کچھ وقت مزید دے دیا جائے تاکہ وہ مطلوبہ معیار تک پہنچ سکیں‘‘۔

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ چاق و چوبند پولیس اہلکار ہی ڈاکوں اور جرائم پیشہ گروہوں میں شامل افراد کا تعاقب کر کے انھیں گرفتار کر سکتے ہیں اسی لیے صوبائی پولیس کے تمام اہلکاروں کو جسمانی طور پر فٹ اور چست کرنے کے لیے انھیں وزن کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here