’پنجاب کی تقسیم، کمیشن تشکیل دیا جائے‘

Posted by on Jul 12, 2012 | Comments Off on ’پنجاب کی تقسیم، کمیشن تشکیل دیا جائے‘

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کی سپیکر کو پیغام بھیجا ہے کہ قومی اسمبلی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے نئے صوبے بنانے کے متعلق منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے مئی میں صدر زرداری نے قومی اسمبلی کی سپیکر کو ملک میں دو نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر کام کرنے کے لیے کمیشن بنانے کا ریفرنس بھیجا تھا۔

یہ بات قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے بدھ کی شام گئے قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی ختم ہونے قبل ایوان کو بتائی۔

انہوں نے صدرِ مملکت کا جو پیغام پڑھ کر سنایا، اس میں بتایا گیا کہ کمیشن میں چھ چھ اراکین سینیٹ اور قومی اسمبلی کے جبکہ دو اراکین پپنجاب اسمبلی کے شامل ہوں گے۔

چیئرمین سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کے سپیکر اراکین کو نامزد کریں گے۔

یہ کمیشن تشکیل پانے کے بعد سے تیس روز کے اندر سپیکر اور وزیراعظم کو اپنی رپورٹ پیش کرے گا اور اس کے بعد نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے آئین میں ترمیم کا عمل شروع کیا جائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ کمیشن کب تک بنے گا اور کیا اس میں اپوزیشن کو حکومت کے برابر نمائندگی ملے گی یا نہیں۔

البتہ یہ بات طے ہے کہ یہ کمیشن جنوبی پنجاب کے بارے میں قومی اسمبلی کی قرارداد اور بہاولپور کی پرانی صوبائی حیثیت کی بحالی اور جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی خاطر حدود کے تعین، سینیٹ، قوی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں، صوبوں کی نئے سرے سے حد بندی اور حلقہ بندیوں کے علاوہ وسائل کی تقسیم جیسے مسائل بھی طے کرے گا۔

حالانکہ قومی اسمبلی ہو یا پنجاب کی صوبائی اسمبلی اس میں جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی بات کہی گئی تھی۔ لیکن صدارتی پیغام میں ملتان اور بہاولپور صوبوں کے ناموں کا ذکر ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے موجودہ چار صوبوں میں پنجاب آبادی اور وسائل کے اعتبار سے نصف سے بھی زائد حصہ رکھتا ہے اور باقی تینوں صوبوں کو پنجاب سے شکایات رہی ہیں۔

سرائیکی زبان بولنے والے سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں کا مطالبہ رہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دو اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کو سرائیکی صوبے میں شامل کیا جائے۔ ان کا یہ مطالبہ بھی رہا ہے کہ نئے صوبے کا نام سرائیکی صوبہ ہونا چاہیے اور بہاولپور کو علیحدہ صوبہ نہیں بنانا چاہیے۔

قراردادوں میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو پانی دیگر وسائل اور جغرافیائی حدود کا تعین کر کے صوبے کی قیام کو عملی جامہ پہنائے۔

خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی نے مئی کے اوائل میں بہاولپور صوبہ کی بحالی اور جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل کی دو الگ الگ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی تھیں جن میں وفاق سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ صوبوں کی بحالی و قیام کے لیے فوری اقدامات کریں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here