پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرنے عدالتی ٹریبونل کی سیلاب رپورٹ مسترد کردی

Posted by on Jul 02, 2011 | Comments Off on پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرنے عدالتی ٹریبونل کی سیلاب رپورٹ مسترد کردی

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے عدالتی ٹریبونل کی وہ رپورٹ مسترد کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس سیلاب کے دوران دریاں کے بند اور پشتے سیاسی بنیادوں پر نہیں توڑے گئے۔
لاہور ہائی کورٹ کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب میں ہونے والا نقصان محکمانہ بدانتظامی، نااہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے۔
لاہور سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق پنجاب حکومت نے سیکریٹری آبپاشی کو پہلے ہی ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ چیف انجنیئرز ایکسیئن اور ایس ڈی او سمیت اس تمام متعلقہ عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جارہی ہے جنہیں عدالتی ٹریبونل نے معطل کردینے کی سفارش کی ہے۔
اس ٹریبونل نے یہ رپورٹ اپریل میں ہی حکومت کو پیش کردی تھی لیکن اب محکمہ داخلہ کی درخواست پرلاہور ہائی کورٹ نے اسے جاری کردیا۔
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے محکمے کے سربراہ زیڈ اے شیر دل نے کہا کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ کی کمیٹی کی رپورٹ میں بھی اور اب لاہور ہائی کورٹ کے عدالتی ٹریبونل نے بھی واضح کیا ہے کہ بند اور پشتے سیاسی بنیادوں پر نہیں توڑے گئے۔
زیڈ اے شیر دل نے کہا کہ رپورٹ میں صوبے کے امدادی کاموں کی تعریف بھی کی گئی لیکن میڈیا نے رپورٹ کے اس حصہ کو اجاگر نہیں کیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی ٹریبونل نے اپنی رپورٹ میں سیلاب میں ہونے والیتباہی اور بربادی کو سرکاری محکموں کی غفلت اور نااہلی اور بدانتظامی قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب درمیانے درجے کا سیلاب تھا تو جناح بیراج کے گیٹ نہیں کھولے گئے۔ تونسہ بیراج کا انتظامی عملہ گھبراہٹ اور اعتماد کی کمی کا شکار تھا اسی طرح جام پور بند کی دیکھ بھال اور نگرانی کا کام ٹھیک نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق فخر فلڈ بند بھی انہیں وجوہات کی بنا پر جگہ جگہ سے ٹوٹا۔
ٹریبونل نے سرکاری اداروں پر تنقید کی ہے اور کہا ہے متعلقہ سرکاری حکام کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔
راجہ ریاض اس وقت وزیر آبپاشی تھے جب پنجاب میں سیلاب تباہی مچا رہا تھا۔ راجہ ریاض نے کہا کہ اس وقت بھی کسی نے ان کی بات نہیں مانی تھی اور سیکرٹری آبپاشی براہ راست وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے احکامات لے رہے تھے۔لیکن پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پیپلز پارٹی کے راجہ ریاض نے اس عدالتی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ راجہ ریاض اس وقت وزیر آبپاشی تھے جب پنجاب میں سیلاب تباہی مچا رہا تھا۔ راجہ ریاض نے کہا کہ اس وقت بھی کسی نے ان کی بات نہیں مانی تھی اور سیکرٹری آبپاشی براہ راست وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے احکامات لے رہے تھے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں بند اور پشتے سیاسی بنیادوں پر توڑے گئے اور مظفر گڑھ سمیت ان اضلاع کو نقصان پہنچایا گیا جہاں پیپلز پارٹی کے ووٹر ہیں۔
انہوں نے کہا کمیشن نے اگر صیح کارروائی کی ہوتی تو وہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف سے بھی پوچھ گچھ کرتے۔
راجہ ریاض نے کہا کہ چونکہ تمام افسروں نے وزیراعلی کے حکم پر عمل کیا تھا اس لیے کسی افسر کے خلاف کوئی حقیقی کارروائی نہیں ہوئی۔ اپوزیشن کے شور مچانے پر صرف سیکریٹری آبپاشی کو ایک محکمے سے تبدیل کرکے دوسرے محکے میں تعینات کردیاگیا ہے۔
تاہم حکومت پنجاب کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی ٹریبونل کی تحقیقات ہیں جس میں پنجاب حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے بتایا کہ ٹریبونل کی رپورٹ کی روشنی میں چیف سیکرٹری ذمہ داروں کا تعین کررہی ہے اور انہیں ان کی غفلت کے مطابق سزا دی جائے گی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here