پشاور میں بم دھماک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد34 ہوگئی

Posted by on Jun 12, 2011 | Comments Off on پشاور میں بم دھماک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد34 ہوگئی

پاکستان   پشاور کی ایک مارکیٹ میں سنیچر کی شب یکے بعد دیگرے ہونے والے دو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 34  تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک سو اٹھارہ افراد زخمی ہیں۔
پشاور میں پولیس آفسر شفیع اللہ نے  بتایا کہ خیبر سپر مارکیٹ میں ہونے والے دو دھماکوں میں اب تک چونتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی تعداد ایک سو اٹھارہ ہے جنہیں پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والوں میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت آٹھ پولیس اہلکار اور تین صحافی بھی شامل ہیں۔
دھماکے کا نشانہ بننے والا بازار پشاور کے صدر بازار اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفاتر سے زیادہ دور نہیں اور وہاں سے صرف چالیس پچاس گز کے فاصلے پر پاکستانی فوج کی ایک رہائشی کالونی بھی واقع ہے۔
اس مقام پر کچھ عرصہ پہلے ایک قبائلی صافی نصراللہ آفریدی کے گاڑی میں بھی دھماکہ ہوا تھا جس میں وہ ہلاک ہوئے تھے۔
زخمی ہونے والوں میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت آٹھ پولیس اہلکار شامل ہے
اس سے پہلے پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز اعجاز خان نے بتایا تھا کہ پہلا دھماکہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق نصف شب سے ذرا بعد ہوا۔ پولیس افسر کے مطابق یہ ایک کم شدت کا دھماکہ تھا لیکن اس کے چند منٹ بعد جب پولیس اہلکار، ریسکیو کا عملہ اور صحافی وہاں پہنچ چکے تھے تو ایک زیادہ شدت کا دھماکہ ہوا جس سے کم از کم بتیس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔
پولیس اہلکار کے مطابق پہلا دھماکہ بظاہر ایک سلنڈر سے کیا گیا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ایک خود کش حملہ تھا جس میں خود کش بمبار ایک موٹرسائیکل پر سوار ہو کر وہاں پہنچا تھا۔
بائیس سالہ طالب علم جمال خان دھماکے کے وقت خیبر سپر مارکیٹ سے متصل فلیٹ میں موجود تھے اورجب وہ دھماکے کی آواز سن کے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے تو عمارت کے ملبے کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے۔
انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ وہ اسے زندگی بھر نہیں بھلا سکیں گے۔ جب دھماکہ ہوا تو کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ پھر گرد اور دھویں کا ایک بادل سا چاروں طرف چھا گیا اور پھر میں نے دیکھا کہ لوگ مدد کے لیے پکار رہے ہیں اور انسانی اعضا ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔
صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے وقت وہ قریب ہی واقع اپنے دفتر میں موجود تھے۔ ان کے مطابق اس علاقے میں بہت سی دکانیں اور ہوٹل ہیں جس کی وجہ سے فیملیز اور طالبعلم بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایک امریکی فوجی کارروائی میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے پاکستان میں شدت پسندوں حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کو پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں ہونے والے بم دھماکے میں چار افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سن دو ہزار سات سے اب تک ہونے والے شدت پسند حملوں میں ساڑھے چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here