پرفیوم کے تحفے نہ لیں

Posted by on Jun 23, 2011 | Comments Off on پرفیوم کے تحفے نہ لیں

خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اطلاعات نے تمام اراکین سے کہا ہے کہ وہ کسی سے پرفیوم کی بوتل نہ لیں کیونکہ شدت پسند پرفیوم کی بوتل میں بارود ڈال کر حملہ کر سکتے ہیں۔
وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب ایک روز پہلے بجٹ پیش کیا گیا ہے اور اب حکومت کی خواہش ہے کہ اسے جلد سے جلد منظور کرا لیا جائے۔
میاں افتخار حسین نے ایوان میں کہا تھا کہ انھیں اطلاع ملی ہے کہ حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے جس میں شدت پسند پرفیوم کی بوتل میں دھماکہ خیز مواد ڈال کر حملہ کر سکتے ہیں اس لیے اراکین اسمبلی اور یہاں تک کہ انہوں نے گیلری میں بیٹھے افراد سے بھی کہا کہ وہ کسی سے پرفیوم تحفے میں وصول نہ کریں۔
اس بارے میں صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے رابطہ کیا جس پر انہوں نے کہا کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ وزیرِ اطلاعات کو یہ معلومات کہاں سے فراہم کی گئیں ہیں تاہم انہوں نے ایوان میں کہا ہے تو اس میں ضرور وزن ہوگا۔
اسمبلی کا اجلاس دارالحکومت پشاور میں جاری ہے جس کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران اسمبلی کی عمارت کے باہر شاہراہ پر ٹریفک تقریبا معطل کر دی جاتی ہے جس کے باعث متبادل راستے پر ٹریفک کا رش بڑھ جاتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بات اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ دھماکہ خیز مواد پرفیوم کی بوتلوں میں ڈال کر حملے کیے جا سکتے ہیں تو پھر یہاں کون کس قدر اپنے آپ کو محفوظ سمجھے گا کیونکہ شدت پسند ٹرکوں میں بارود لا کر دھماکے کر سکتے ہیں تو پرفیوم کی بوتلیں لانا ان کے لیے کتنا مشکل ہوگا۔خیبر پختونخواہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سابق وزیر اعلی اکرم خان درانی کا کہنا ہے کہ حکومت اس مرتبہ بجٹ اجلاس جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے اور پھر اچانک وزیر اطلاعات نے یہ بیان بھی داغ دیا کہ کوئی کسی سے پرفیوم تحفے میں نہ لے۔
انھوں نے کہا کہ حکومتی ارکان اب اس قدر خوفزدہ ہیں کہ اب بات پرفیوم تک آ گئی ہے اور لگتا ہے کہ حکومتی ارکان کو درخت، بکری، گائے گویا ہر چیز میں دھماکہ خیز مواد نظر آتا ہے۔
اکرم خان درانی کے مطابق انھوں نے حکومت سے پہلے بھی کہا تھا کہ طاقت کے ذریعے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
ان کے بقول یہ ہی سب کچھ اب امریکہ، افغانستان میں کر رہا ہے، اب وہ طالبان سے نہ صرف مذاکرات کر رہا ہے بلکہ دہشت گردی کی فہرست سے طالبان کے نام نکالنے پر بھی راضی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بات اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ دھماکہ خیز مواد پرفیوم کی بوتلوں میں ڈال کر حملے کیے جا سکتے ہیں تو پھر یہاں کون کس قدر اپنے آپ کو محفوظ سمجھے گا کیونکہ شدت پسند ٹرکوں میں بارود لا کر دھماکے کر سکتے ہیں تو پرفیوم کی بوتلیں لانا ان کے لیے کتنا مشکل ہوگا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here