پبلک اکانٹس کمیٹی نے سابق فوجی جرنیلوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

Posted by on Jul 02, 2011 | Comments Off on پبلک اکانٹس کمیٹی نے سابق فوجی جرنیلوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی پبلک اکانٹس کیمٹی نے فوجی ادارے نیشنل لاجسٹک سیل یا این ایل سی میں لگ بھگ دو ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر تین سابق فوجی جرنیلوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں غیر معمولی واقعہ ہے کہ پبلک اکانٹس کمیٹی نے سابق فوجی جرنیلوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد میں  پبلک اکانٹس کیمٹی یا پی اے سی نے جمعہ کی رات کو جاری کیے جانے والے اپنے فیصلے میں پاکستان کی فوج کے تین سابق جرنیلوں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل خالد منیر خان، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور ریٹائرڈ میجر جنرل ظہیر اختر اور سویلین چیف فنانس افسر سعید الرحمان کو این ایل سی میں ہونے والے اس مالی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
پی اے سی نے گزشتہ سال دسمبر میں این ایل سی میں مبینہ بے قاعدگیوں کے بارے میں اپنی کارروائی اس وقت مخر کردی تھی جب فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اعلان کیا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد خالد مینراور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر این ایل سی کے آفیسر انچارچ رہ چکے ہیں جبکہ ریٹائرڈ میجر جنرل خالد ظہیر اختر اس ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں۔
پی اے سی نے منصوبہ بندی اور ترقیات ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان تین سابق جرنیلوں کے خلاف فوری طور پر قواعد کے مطابق انضباطی کارروائی شروع کرنے کی خاطر سیکریڑی دفاع کو ریفرینس بھیجے۔
پی اے سی نے این ایل سی کے سابق چیف فنانس افسر سعید الرحمان کے خلاف ریفرنس سیکریڑی کابینہ ڈویژن کو بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔
ان فوجی اور سول افسران پر الزام ہے کہ انھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزارت خزانہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاریہ کاری کی تھی۔
گزشتہ ماہ چودہ جون کو پبلک اکانٹس کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اطہر علی کو ہدایت کی گئی تھی کہ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سات ماہ قبل این ایل سی کی رقم سٹاک مارکیٹ میں ڈوبنے کی جانچ کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کی رپورٹ تیس جون تک پیش کی جائے۔پاکستان کے آڈیٹر جنرل نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے قانون کے خلاف قرار دیا تھا۔ کابینہ ڈویژن کے سابق سیکرٹری حامد حسن کی رپورٹ کے مطابق دس اپریل دو ہزار نو تک این ایل سی کو ایک ارب بیاسی کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم کا نقصان پہنچایا گیا۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکانٹس کمیٹی نے این ایل سی کے بارے میں حامد حسن کی سفارشات اور نتائج کو تسلیم کیا ہے۔
پی اے سی نے منصوبہ بندی ڈویژن کے سیکریٹری کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ مزید مفصل تحقیقات کے لیے سارا معاملہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین کو بھی بھیجے۔
پی اے سی نے گزشتہ سال دسمبر میں این ایل سی میں مبینہ بے قاعدگیوں کے بارے میں اپنی کارروائی اس وقت مخر کردی تھی جب فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اعلان کیا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔
گزشتہ ماہ چودہ جون کو پبلک اکانٹس کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اطہر علی کو ہدایت کی گئی تھی کہ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سات ماہ قبل این ایل سی کی رقم سٹاک مارکیٹ میں ڈوبنے کی جانچ کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کی رپورٹ تیس جون تک پیش کی جائے۔
لیکن فوج کے سربراہ کی بنائی گئی کمیٹی کے رپورٹ کے بارے میں آج تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here