پاک بھارت کرکٹ روابط بحال

Posted by on Jul 17, 2012 | Comments Off on پاک بھارت کرکٹ روابط بحال

پاکستان کی کرکٹ ٹیم تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے اس سال دسمبر میں بھارت کا دورہ کرے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے کہا ہے کہ بھارتی ہم منصب شری نواسن کے ساتھ پچھلے چھ ماہ کے دوران ان کی تواتر سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اوربالآخر ان کوششوں کے نتیجے میں ایک اچھی اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے جس میں دونوں ملکوں کا مفاد ہے۔ ان کے بقول کرکٹ کے روابط کی بحالی برف پگھلنے کے مترادف ہے جس کے لیے وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے مشکور ہیں۔

بھارت نے نومبر 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد یکطرفہ طور پر پاکستان کے ساتھ کرکٹ روابط بھی معطل کردیے تھے۔ تاہم اس عرصے میں عالمی کپ، چیمپیئنز ٹرافی اور ایشیا کپ میں دنوں ملک ایک دوسرے کے خلاف کھیل چکے ہیں۔

’’پاکستان انڈیا کے تعلقات بھی اچھے ہوں گے یہ کرکٹ صرف گراؤنڈ میں کھیلنا ہی نہیں ہوتا یہ دونوں ملکوں کے تعلقات اچھے کرتی ہے دونوں ملکوں میں معاشی خوشحالی آئے گی دونوں ملکوں کے عوام نزدیک آئیں گے اور عوامی رابطے جب بہتر ہوتے ہیں تو یہ آپ کے خارجہ تعلقات میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔‘‘

پاکستان میں کرکٹ کے عہدیدار، قومی ٹیم کے کھلاڑی اور مبصرین بھارت کےساتھ روابط کی بحالی کو اس کھیل بالخصوص دو طرفہ تعلقات کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

ذکا اشرف نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھی بھارت کی ٹیم کی میزبانی کرنے کا خواہش مند ہے اور توقع ہے کہ اس سیریز کے بعد دونوں ملک اس امکان پر غور کریں گے۔  انھوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں تین سال سے تعطل کا شکار بین الاقوامی کرکٹ بھی جلد بحال ہوگی۔

مصباح الحق

​​​​پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے بھارت کے ساتھ روابط کی بحالی پر اپنے فوری ردعمل میں کہا ہے کہ  برصغیر میں اس کھیل کے شائقین کو ایک بارپھر خطے میں معیاری کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان ظہیر عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے سیاسی کشیدگی کھیلوں کے روابط پر اثر انداز نہ ہو۔

’’جب ہم نے کھیل کو اسپورٹس کا نام دیا ہے تو پھر اس میں صرف کھیل ہی ہونا چاہیے، سیاست نہیں ہونی چاہیے اور کھیل اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔‘‘

’’جس سیریز کے لیے بھی لوگ سب سے زیادہ منتظر ہوتے ہیں جس میں کھلاڑیوں پر پریشر بہت ہوتا ہے اور یہی موقع ہوتا ہے جب کوئی کھلاڑی اپنی کارکردگی دکھا کر اپنے آپ کو منوا سکے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری ٹیم میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک بہت اچھا موقع ہے۔‘‘

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here