پاکستان کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کے مبینہ طور پرسپاٹ فکسنگ میں ملوٹ ہونے کے سکینڈل کا انکشاف کرنے و ا لا نیوز آف دی ورلڈ اخبار آخر کار ٹیلی فون ہیکنگ کے سکینڈل کے دوران اپنی 168 سالہ انیگز میں ہی آوٹ ہو گیا۔

Posted by on Jul 11, 2011 | Comments Off on پاکستان کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کے مبینہ طور پرسپاٹ فکسنگ میں ملوٹ ہونے کے سکینڈل کا انکشاف کرنے و ا لا نیوز آف دی ورلڈ اخبار آخر کار ٹیلی فون ہیکنگ کے سکینڈل کے دوران اپنی 168 سالہ انیگز میں ہی آوٹ ہو گیا۔

برطانیہ کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے روزنامے نیوز آف دی ورلڈ کا اتوار کو آخری شمارہ شائع ہوگا۔
اس بات کا انکشاف نیوز انٹرنیشنل کے چیئرمین جیمز مرڈاک نے کرتے ہوئے کہا کہ آخری شمارہ نیک مقاصد کے لیے ہوگا۔
نیوز آف دی ورلڈ برطانیہ کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اخبار ہے اور یہ گزشتہ ایک سو اڑسٹھ سال سے شائع ہو رہا ہے۔
اخبار کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آخری شمارے میں کوئی بھی اشتہار شائع نہیں کیا جائے گا بلکہ فلاحی تنظیموں کے اشتہارات مفت چھاپے جائیں گے۔
نیوز آف ورلڈ کے سابق مدیر اینڈی کولسن سے دوبارہ جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور برطانوی اخبارات کے مطابق انھیں جمعہ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
ڈاننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ اخبار کے بند ہونے کے سلسلے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ سکول جانے والی مقتول لڑکی ملی ڈالر کے موبائل فون اور چھ سال قبل سات جولائی کو لندن میں ہوئے خودکش بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے موبائل فونز کو ہیک کرنے کے لیے اخبار کی انتظامیہ نے باقاعدہ اجازت دی تھی۔
لندن پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹیلی فون ہیکنگ سکینڈل کے چار ہزار متاثرین کی نشاندہی کی ہے جب کہ دیگر سینکڑوں افراد سے رابطہ کیا ہے جن کو شبہ ہے کہ ان کی فون پیغامات کو ہو سکتا ہے کہ روکا گیا ہو۔

سن کے ساتھ کیا ہوگا یہ مستقبل کا معاملہ ہے: ترجمان
نیوز انٹرنیشنل نے ان افواہوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ دی سن کو اب ہفتے کے ساتوں دن شائع کیا جائے گا۔
ادارے کی ترجمان کا کہنا ہے سن کے ساتھ کیا ہوگا یہ مستقبل کا معاملہ ہے۔
دی سن، نیوز انٹرنیشنل کا ایک اور اخبار ہے جو ہفتے میں چھ روز شائع کیا جاتا ہے۔
اخبار سے وابستہ دو سو ملازمین کے مستقبل کے بارے میں ادارے کی ترجمان نے کوئی وضاحت نہیں کی تاہم انہوں نے کہا ان سے اس ادارے میں دیگر ملازمتوں کے لیے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔
نیوز آف دی ورلڈ کے سیاسی ایڈیٹر ڈیوڈ وڈنگ نے اس اخبار میں اٹھارہ ماہ پہلے ملازمت اختیار کی تھی۔ ان کے بقول یہ ایک بہت ہی اچھا اخبار ہے۔
ان کا کہنا تھا اب اخبار میں پرانی انتظامیہ کے لوگ نئے اور صاف ستھرے لوگوں سے تبدیل ہو چکے ہیں۔ موجودہ ملازمین محنت کش اور پیشہ ورانہ صحافی ہیں اور ہم یہاں ایک اچھا اخبار نکالتے ہیں۔ لیکن ہم آج تک چھ سال پہلے کیے گئے کام کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چھ برس پہلے لندن میں دھماکوں کے بعد جس طرح کی کوریج کی گئی اس سے ایک اچھے اخبار کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا۔ جنہوں نے غلط کیا انہیں ان کے کیے کی سزا ملنی چاہیے۔

اتوار کو اس اخبار کا آخری شمارہ شائع ہوگا
ان کے بقول اخبار نے پارلیمنٹ کے بارے میں بھی کئی بیانات شائع کیے جبکہ اس کے پاس تمام حقائق موجود نہیں تھے۔
ڈیوڈ وڈنگ نے کہا کمپنی نے عدالت سے باہر معاملات طے کیے جن کی منظوری میں نے دی۔ میرے علم میں اب صورتحال کی مکمل تصویر نہیں ہے۔ یہ غلط تھا اور یہ ایک بہت ہی افسوسناک معاملہ ہے۔
لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ ٹام واٹسن نے سکائی نیوز کو بتایا یہ عوام کی فتح ہے اور میں کہوں گا کہ نیوز آف دی ورلڈ سے چھٹکار اچھی بات ہے۔
تاہم جسٹس سکریٹری کین کلارک کا کہنا ہے یہ اسے نیا انداز دے رہے ہیں۔
ماضی میں اخبار پر اپنے فون کالز کی ہیکنگ کا الزام عائد کرنے والے سابق نائب وزیراعظم لارڈ پریسکاٹ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھی کوئی چال ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال برطانیہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کے مبینہ طور پرسپاٹ فکسنگ میں ملوٹ ہونے کا سکینڈل بھی نیوز آف دی ورلڈ اخبار سامنے لایا تھا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here