پاکستان میں قید بھارتی جاسوس سربجیت کی بہن پاکستان میں

Posted by on Jun 07, 2011 | Comments Off on پاکستان میں قید بھارتی جاسوس سربجیت کی بہن پاکستان میں

پاکستان میں جاسوسی ، دہشت گردی اور بم دھماکوں کے الزام میں قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور بھائی سے ملاقات کے لیے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئی ہے ۔ واہگہ بارڈر پر دلبیر کور کا استقبال سربجیت کے وکیل شیخ اویس اکرام نے کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دلبیر کور نے کہا کہ وہ پاکستان سرکار کی شکر گزار ہیں کہ اس نے بھائی سے ملاقات کرنے کے لیے ویزا فراہم کیا ۔ میں امید کرتی ہوں کہ پاکستانی سرکار میری اپیل قبول کرتے ہوئے میرے بھائی کی باقی سزا معاف کردے گی۔

اس سے قبل اتوار کو ایک بھارتی ٹی وی نے دعوی کیا تھا کہ حکومت پاکستان نے کوٹ لکھپت جیل میں قید سزائے موت کے منتظر بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کی رہائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے پاکستانی وزارت داخلہ کے حکام سے رابطہ کرکے بتایا کہ مختلف بم دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث سربجیت سنگھ کے بعض عزیز و اقارب بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کو دیت دینے کیلئے تیار ہیں جبکہ پاکستانی حکام نے اس حوالے سے اپنی رضامندی ظاہر کردی ہے۔

بھارتی حکام نے اس بارے میں سر بجیت سنگھ کی بہن کو بھی مطلع کردیا ہے۔ لاہور میں سربجیت سنگھ کے وکیل رانا عبدالحمید نے اس حوالے سے بتایا کہ سربجیت سنگھ کی رہائی کا معاملہ صدر پاکستان کے پاس ہے، وہ جب چاہیں سربجیت سنگھ کو معاف اور اسے رہا کرسکتے ہیں۔

سربجیت سنگھ پر الزام ہے کہ وہ 1990 میں لاہور اور ملتان میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ہے۔ سربجیت سنگھ حکومت پاکستان کے مطابق منجیت سنگھ ہے اور لاہور اور ملتان میں کئی بم دھماکوں میں 14 افراد کو ہلاک کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اسے 1991 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مختلف گواہوں کے بیانات کی روشنی میں سزائے موت سنائی تھی جبکہ سربجیت سنگھ نے خود بھی اس کا اعتراف کیا تھا کہ وہ من جیت سنگھ ہے اور را کیلئے کام کرتا ہے تاہم بعد میں وہ اپنے اعترافی بیان سے منحرف ہوگیا تھا۔سربجیت سنگھ کے وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس منجیت سنگھ کا سراغ لگا لیا ہے جس کے شبے میں سربجیت سنگھ گرفتار ہیں۔

مبصرین اور عدالتی طریقہ کار سے واقف کچھ افراد کا کہنا ہے کہ اگر سربجیت سنگھ کی سزا ئے عمر قید میں بھی تبدیل کردی گئی تو انہیں فوری رہائی مل جائے گی کیونکہ وہ پہلے ہی چھبیس برس کی قید کاٹ چکے ہیں۔

کچھ مبصرین اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے افراد کا کہنا ے دلبیر سنگھ کی پاکستان آمد میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے لئے گرما گرم بحث مباحثے کا موضوع بن جائیں گی۔ اس بحث کا آغاز منگل کے روز ان کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس سے ہوگا۔ اس حوالے سے چند مذہبی جماعتیں خاص کر مذہبی نظریات رکھنے والی جماعتیں کسی طور بھی سربجیت سنگھ کو معاف کئے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ سربجیت سنگھ کا کیس 2008  میں منظر عام پر آیا تھا اور اس وقت بھی یہی حال تھا کہ یہ جماعتیں کھل کر سربجیت سنگھ کی معافی کے سخت خلاف تھیں۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیر سنگھ جیسے بھارتی جاسوس کو پہلے ہیں آزاد کرکے کیا پاسکا ہے کہ اب سربجیت کو بھی عزت کے ساتھ واپس کردیا جائے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وہ فورمز جو پاکستان و بھارت کے درمیان دوستی کے رشتے استوار کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں وہ بھی اپنے موقف کی تائید میں کھل کر میدان میں اتریں گی یوں یہ موضوع ایک مرتبہ پھر زور پکڑ جائے گا۔ ایک طرف سیاسی جماعتیں ہوں گی تو دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور تیسری جانب پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لئے کوشاں ادارے۔ سب سے بڑھ کر میڈیا میں جو بحث وتکرار موقع ہے وہ دیدنی ہوگی۔گویا اس حوالے سے آئندہ چند روز اہم ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here