’پاکستانی جوڈیشل کمیشن کی کارروائی مسترد‘

Posted by on Jul 17, 2012 | Comments Off on ’پاکستانی جوڈیشل کمیشن کی کارروائی مسترد‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممبئی حملوں سے متعلق پاکستانی جوڈیشل کمیشن کی طرف سے بھارت جا کر وہاں پر کی جانے والی کارروائی کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر سات رکنی کمیشن اس سال سولہ مارچ کو ممبئی گیا تھا جہاں پر اُنہوں نے چار بھارتی سرکاری اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے تھے ان میں خاتون مجسٹریٹ شری متی راما جے لتھ اور ممبئی حملوں کے مقدمات کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ رامیش مہلے بھی شامل ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ بھارت میں کمیشن کی کارروائی پاکستانی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی اس لیے اسے پاکستان میں جاری عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر ان چار بھارتی سرکاری اہلکاروں پر بیانات کے دوران جرح نہ کرنے سے متعلق اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر کوئی معاہدہ ہے تو اُس کو ختم کیا جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ذکی الرحمن لکھوی، شاہد جمیل اور یونس انجم کے وکلاء خواجہ حارث اور ریاض اکرم چیمہ نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ممبئی میں قیام کے دوران مذکورہ چار افراد کے بیانات ممبئی کے چیف میٹروپولیٹن آفس میں ریکارڈ کیے گئے تھے تاہم اس کے بعد جب ان پر جرح کی جانے لگی تو اُنہیں روک دیا گیا اور بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہے کہ ان افراد پر جرح نہیں ہوگی اور محض اُن کے بیانات ہی قلمبند کیے جائیں گے۔

خاتون مجسٹریٹ نے ممبئی حملوں میں واحد زندہ بچ جانے والے مجرم اجمل قصاب کا اقبالی بیان ریکارڈ کیا تھا۔ اس کے علاوہ جن دوا فراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اُن وہ ڈاکٹر شامل ہیں جنہوں نے ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے پوسٹ مارٹم کیے تھے۔

یاد رہے کہ چھبیس نومبر سنہ دوہزار آٹھ میں ممبئی حملوں میں غیر ملکی شہریوں سمیت ایک سو اسی سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تعداد بھارتی باشندوں کی تھی۔

یاد رہے کہ ممبئی حملہ سازش کے مقدمے میں گرفتار سات افراد پر فرد جُرم بھی عائد کی جا چکی ہے اور اب تک حکومت نے اس مقدمے کی سماعت کرنے والے پانچ جج صاحبان کو تبدیل کیا ہے۔ جن میں سخی محمود کہوٹ، رانا باقر علی،ایم اکرم اعوان، نثار محمد خان اور شاہد رفیق شامل ہیں جبکہ دوسری جانب حکومت نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست بھی دائر کر رکھی ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ جلد سُنایا جائے کیونکہ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا تشخص خراب ہو رہا ہے۔

ممبئی حملہ سازش تیار کرنے کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدی ذوالفقار نے عدالت کو بتایا کہ اُنہوں نے بھی بھارتی حکام کو بتایا تھا کہ جب تک ان افراد پر جرح نہیں ہوگی اُس وقت تک عدالتی کمیشن کی کارروائی غیر موثر رہے گی۔

درخواست گُزاروں کا کہنا تھا کہ ان افراد کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ایک ڈوزئیر (دستاویزات) کی شکل میں پاکستان بھیج دی گئیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج حبیب الرحمن کا کہنا تھا کہ محض ان چار بھارتی اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کرنے سے قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے اس کے لیے اُن پر جرح ہونا بھی ضروری ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here