پارلیمنٹ نہیں، آئین بالا دست ہے: چیف جسٹس

Posted by on Jul 08, 2012 | Comments Off on پارلیمنٹ نہیں، آئین بالا دست ہے: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ آئین بالادست ہوتا ہے اور اس بارے میں غلط فہمی دور ہونی چاہیے۔

یہ بات انہوں نے آج کراچی میں وکلاء کی سپریم کورٹ میں انرولمنٹ کی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے ذہنوں میں پارلیمان کی بالادستی کے بارے میں غلط فہمی دور ہوجانی چاہیے کیونکہ آئین ہی ہے جو عوام کی امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی امنگیں جانچنے کے لیے ہمیں صرف اپنے آئین کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ عوام کی رائے ہی دراصل جمہویت کی روح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کا ہر قیمت پر دفاع کیا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے واضع کیا کہ پاکستان کے آئین کی شق نمبر آٹھ عدالتِ عظمٰی کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہونے والی کسی بھی قانون سازی کو رد کردے۔

انہوں نے کہا کہ اب تو خود برطانیہ میں پارلیمان کی بالادستی کے نظریے کو فرسودہ سمجھا جانے لگا ہے۔ چیف جسٹس نے اصرار کیا کہ آزادی کے پینسٹھ برس بعد اب وقت آگیا ہے کہ ہم خود کو نو آبادیاتی نظام کے شکنجے سے آزاد کروا لیں اور اپنے آئین کی بالادستی کی شروعات کردیں ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت ِ عظمٰی کو یہ بھی اختیار حاصل ہے کہ کسی ایسے قانون کو بھی ختم کردے جو آئین سے متصادم ہو۔

کا کہنا ہے کہ ملک کا آئین پارلیمان سے بالا تر ہے اور ملک کے ہر شہری کے لیے قانون برابر ہے۔

انہوں نے ملک میں آزاد عدلیہ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ صرف آزاد اور خودمختار عدلیہ ہی عوام کی امنگوں کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کرسکتی ہے۔

انہوں نے آئین کی شق ایک سو نوے کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت پاکستان کی تمام عدالتی اور انتظامی ادارے سپریم کورٹ کی مدد کے پابند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رہنے والے ہر شخص کو خواہ وہ پاکستانی ہو یا غیرملکی ملک کے قانون کا احترام کرنا چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اور قانون امیر اور غریب کے لیے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے عدالتِ نے ایک فیصلہ دیا جس کے تحت ملک کے چیف ایگزیکٹیو کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا کیونکہ اس نے عدالت کے احکامات سے روگردانی کی تھی اور ایک خاص کام جو عدالت اسے کرنے کے لیے کہہ رہی تھی اس نے نہیں کیا اس لیے اسے توہینِ عدالت کا مجرم قرار دیا گیا۔

انہوں اس موقع پر اسناد پانے والے وکلاء سے کہا کہ وہ عدالت کی مدد کریں کیونکہ ان کی مدد سے عدالت ِ عظمٰی بہتر فیصلہ دے سکتی ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here