پارلیمان میں راجہ پرویز اشرف کی کارکردگی

Posted by on Jun 24, 2012 | Comments Off on پارلیمان میں راجہ پرویز اشرف کی کارکردگی

پاکستان میں امورِ پارلیمان پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم فیفن کے مطابق ملک کے نومنتخب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا شمار گیلانی کابینہ کے ان پانچ وزراء میں ہوتا ہے جنہیں پارلیمان میں سب سے زیادہ سوالات کا سامنا رہا۔

راجہ پرویز اشرف گیلانی کابینہ میں پہلے مارچ دو ہزار سے آٹھ سے فروری دو ہزار گیارہ تک وفاقی وزیرِ بجلی و پانی اور پھر اپریل دو ہزار بارہ سے کابینہ کی تحلیل تک وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہدوں پر فائز رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راجہ پرویز اشرف کی بطور وزیرِ بجلی کارکردگی ملک میں توانائی کی کمی پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ سے ’داغدار‘ رہی اور انہوں نے ملک میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے تو بارہا کیے لیکن ’ان کے قومی اسمبلی کے اندر اور باہر دیے گئے جوابات اور دعوے کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے‘۔

اس طرح انہوں نے موجودہ پارلیمان میں اپنے اکیاون مہینوں میں سے چھتیس بطور وزیر گزارے۔

تنظیم کے اعدادوشمار کے مطابق انہوں نے بطور وزیرِ پانی و بجلی ان کی وزارت سے پوچھے گئے سوالات میں سے چالیس فیصد کے ہی جوابات دیے۔

فیفن کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے تناظر میں ارکانِ پارلیمان نے راجہ پرویز اشرف کے دور میں پانی و بجلی کی وزارت سے ایک ہزار ایک سو سینتالیس سوالات کیے جن میں وزارت نے سات سو یا ساٹھ فیصد سوالات کے ہی جواب دیے۔

بطور وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اپنے دو ماہ کے دورِ وزارت میں انہوں نے صرف دو سوالات اور ایک توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیا۔

رپورٹ کے مطابق راجہ پرویز اشرف کے بطور وزیرِ پانی و بجلی دور میں انہوں نے دو بل متعارف کروائے۔ ان میں دو ہزار دس کا متبادل توانائی ترقی بورڈ کا بل اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ بل 2010 شامل ہیں۔ ان میں سے متبادل توانائی بورڈ بل دو ہزار دس میں جبکہ موخر الذکر بل دو ہزار گیارہ میں پاس ہوا۔

فیفن کی جانب سے راجہ پرویز اشرف کی پارلیمان میں کارکردگی کے بارے میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بطور وزیرِ پانی و بجلی وہ ملک میں جاری توانائی کے بحران اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اکثر ارکانِ اسمبلی کے سوالات کا نشانہ رہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here